
نگہت فرمان
کل کا دن عجیب تھا۔ آسمان سے زمیں پربرف ایسے پڑی جیسے سنگ برسے،یوں لگا جیسے ان برستےبرف کے گولوں میں پیغام پوشیدہ ہے ۔ گاڑیوں اور
عمارتوں کے شیشے ٹوٹے،چھتوں پر گرنے والےاولوں کی آواز گولیوں و بم کی آوازوں سے ملتی جلتی لگیں ۔
لوگ بھاگے، پناہ گاہوں میں چھپے،مگر کیا کسی نے دل کے اندر بھی جھانکا؟یہ اولے فقط موسم کا کھیل تھے یا وہ سوال جو رب نے ہم سے کیا ،موسم کے اس تغیر کے ذریعے۔
کیا اب بھی سوئے رہو گے؟جب زمین چیخ رہی ہے کہ ظلم کی حدیں پار ہو چکی ہیں۔ اس کی مخلوق لہو لہان ہے اس کے دربار میں فریاد کناں ہے خاموش رہنے والوں سے انتقام کی خواہش کررہی ہے ۔تو کیا اپنے راستے میں اتنی قربانیاں دینے والے بندوں کو رب مایوس کرے گا ؟ ایسا تو ممکن ہی نہیں سو ہمیں جان لینا چاہیے کہ یہ فقط موسم نہ تھا،یہ شاید وہی سوال تھا جو رب ہم سے بارہا پوچھ رہا ہے "کیا تم دیکھ نہیں رہے؟
فلسطین میں میرے بندےکس حال میں ہیں؟"
جب وہاں بچے ہاتھوں میں کھلونے و کتاب کے بجائے کھانےکی آس میں خالی برتن لیے گھوم رہےہیں ۔بھوک سے بلک رہے ہیں اور مائیں بچوں کو نئے کپڑے و جوتوں سے سنوار نہیں رہیں بلکہ کفن پہنا رہی ہیں تو سمجھو کہ یہ تنبیہ ہے ایک جھٹکا ہے کہ ہوش میں آؤ، اپنے اعمال درست کرلو دنیا اور اس کی محبت سے منہ موڑو اور ان کا ساتھ دو جہاں ظلم چیخ رہا ہے اور انصاف خاموش ہے۔
یہ رب کی طرف سے مہربانی ہے کہ اُس نے ہمیں ابھی صرف یاد دلایا ہے،ورنہ اگراُس کا قہراُترآئےتوزمین کانپےاورآسمان بھی پھٹ جائے۔یہ رب کی رحمت ہے کہ تنبیہ ابھی فقط اولے ہیں ورنہ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے نہ چھتیں بچتی ہیں نہ دیواریں ۔
یہ فقط موسم نہیں بدلا،یہ وقت کا لہجہ ہےجوبدل رہا ہےاورجانے کیوں لگتا ہےکہ شاید ہم آخری بار خبردار کیے جا رہے ہیں ۔ابھی وقت ہے،پکارسن لیں۔ لوٹ آئیں رب کی طرف قبل اس کے کہ خامشی صدا بن جائےاور وہ بھی قہرکی صدا۔
۔
ورکشاپ میں شرکا کوجامع ہیونٹ پر مبنی غفاظتہ پروگرام سےمتعلق آگاہی فراہم کی گئی ،جس میں مریضوں کی حفاظت کو طبی یونٹ کی سطح پر بہتر بنانے کے عملی طریقے سکھائے گئے ،انہوں نے کہا کہ جامع یونٹ پر مبنی حفاظتی پروگرام ایک ایسا ماڈل ہے جو ہر اسپتال میں مریض کی حفاظت کے عمل کو منظم اور مربوط بنا تا ہے۔
سیمینار میں شرکا کو سیفٹی اسسمنٹ ٹولز کے موثر استعال کے بارے میں بھی بتایا گیا ،شرکا کو بتایا گیا کہ ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے مریضوں کو علاج کے دوران درپیش خطرات کی برقت نشاندہی کی جاسکتی ہے جس سے مریض کی جان بچانے کے پیشگی اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاہم ان ذریعے کا بروقت استعمال ضرروری ہوتا ہے ۔یہ ذرائع طبی عملے کو درست فیصلہ لینے اورحفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر تے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم ورک اور مؤثر کمیونیکیشن صحت کے شعبے میں ایک اہم کردارادا کرتےہیں،خاص طور پرجب مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بات ہو۔ جب تمام عملہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے کام کرتا ہے اور واضح و بروقت رابطہ رکھتا ہے تو غلطیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور علاج کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ مریضوں کی حفاظت کے اقدامات کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسپتالوں اور طبی اداروں میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ہر فرد ذمہ داری محسوس کرے اور حفاظتی پروٹوکولز کو مستقل طور پر اپنایا جائے۔ اس کے علاوہ، عملے کی تربیت، جدید نظاموں کا استعمال، اور کھلی بات چیت کے ذریعے ایک مضبوط حفاظتی کلچر قائم کیا جا سکتا ہے۔





































