
نگہت فرمان
ہماری پہچان زبان، نسل یا فرقہ نہیں بلکہ "پاکستان"ہے، وقت کا تقاضہ ہےکہ اس پہچان کو سمجھیں اسے اپنائیں ۔
"جب دشمن سرحدوں پر کھڑا ہو،تب سب سے بڑی کمزوری اندرونی نفرتیں ہوتی ہیں آئیں ایک ہو جائیں
"یہ وقت تفرقے کا نہیں، یکجہتی کا ہے۔ ایک دوسرے کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں نہ مذاق اڑائیں، نہ دشمنوں کو ہنسنے کاموقع دیں ۔
ہماری طاقت ہماری وحدت میں ہے۔اپنی حکومت اور اداروں سے لاکھ اختلافات ہوں لیکن جب دشمن دروازے پر ہو تو گھر کے افراد کو آپس میں صلح کرکے اسے مار بھگانا چاہیے ۔
"دشمن ہمیں زبان، فرقہ اور قومیت کی بنیاد پر توڑنا چاہتا ہے مگر ہمیں یاد رکھنا ہےکہ ہم ایک ہیں، اور ایک رہیں گے
"ہمیں بتادینا ہے کہ نہ پنجابی ہیں ،نہ پٹھان ،نہ سندھی ہیں نہ مہاجر،ہم صرف پاکستانی ہیں۔ ایک دل، ایک قوم، ایک پرچم!!"ہمارا کلمہ ایک ،مذہب ایک ،ہمارا یقین و ایمان اللہ پر ۔زندگی جیتے پہلے بھی تھے لیکن القدس کے باسیوں نے ہمیں اسے گزارنے کا ڈھنگ سکھایا ۔موت کے بعد زندہ ہونے کا یقین پہلے بھی تھا لیکن شہادت کی آرزو میں موت کی تمنا کیا ہوتی ہے یہ قدسیوں سے سیکھا ۔سو ہمیں دشمن کو بتادینا ہے کہ ہم حکمرانوں کے ستائے ہوئے ضرور ہیں لیکن ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا، وقت آئے گا تو ان شاء اللہ ہم حکم ربی سے اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔
اپنے ملک کی ، وطن کی حفاظت کے لیے قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ ۔۔۔ہمارا یہ پیغام دنیا کو جانا چاہیے کہ ہمارے آپس کے جھگڑے ایک طرف، وطن کی حفاظت ایک طرف ۔جنہیں ملک سے مسئلہ ہے وہ اس ملک سے چلے ہی جائیں تو زیادہ بہتر ہے جب دوسروں سے دھتکار پڑے گی تو اپنے وطن کی قدر آئے گی۔
خدا کرے کہ سدا سایۂ امن رہے قائم
نہ ہو کبھی کوئی آنچ، نہ ہو کوئی بھی مائل بہ ستم
وطن کے دشمنو! سن لو، یہ دیس ہے جاں سے پیارا
نہ جھکنے والا چراغ ہے، نہ بجھنے والا ستارہ
ہمارا عزم ہے فولاد، ہماری نیت پاک
اگر بڑھا کوئی ہاتھ، ہوگا پھر حساب بھی سخت
سلامتی کی دعا ہے لبوں پہ صبح و شام
جو بھی کرے شرارت، ہوگا اُس کا انجام تمام
ان شاء اللہ





































