
نگہت فرمان
اتنے دن ہوگئے ایسا نہیں کہ ہم بھول گئے ہوں ،یہ بھی نہیں کہ اپنی دنیا میں گم ہوگئے ہوں ۔ احساس نہ ہو،خیال نہ ہو ،ہاں بس اتنا ضرور ہے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ،قلم تھرانے لگا
ہے ۔کیا لکھیں ، کیسے لکھیں ،بے بسی ،بے چینی گھیرے ہوئے ہے ۔آنسوخشک ہوگئےہیں لیکن غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے فریڈم فلوٹیلا کے مالڈین کے حوصلہ مند افراد اور سات سو افراد پر مشتمل قافلہ استقامت کو دیکھا تو احساس ہوا کہ جو کچھ کرنا چاہےوہ راستے نکال لیتا ہے،ہمت کرتا ہے اور دل پکارا کہ شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے ان کا جن کی کشتی کے بادبان
سمندر کی نمکین ہوا سےٹکرائے،تو اس میں کوئی سیاسی نعرہ نہ تھا، کوئی عسکری ہتھیارنہ تھے،صرف آٹے کی بوریاں،دودھ کے ڈبےوادویات تھے۔ماڈیلن کشتی پر سوار وہ چہرے کسی ایک قوم کے نہ تھے، کسی ایک زبان کے ترجمان نہ تھے۔ وہ انسانیت کےسپاہی تھے۔خاموش، پُرعزم اور نڈر۔
یہ کشتی غزہ کے ساحلوں تک نہ پہنچ سکی لیکن اس نے دنیا کے سوئے ہوئےضمیروں کے دروازوں پر ایک اور دستک ضرور دی۔ اسرائیلی درندوں نے ان مسافروں کو گرفتار کیا، ان کے خوابوں کو لوٹا، اور انہیں دیس بدر کردیا مگر ان کی ہمت ،حوصلہ جرات ہی تاریخ کے اوراق پر ان مٹ ہوچکی ہے۔جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، وہ ان نوجوانوں نے کیا ،وہ بظاہر ناکام ہوئے لیکن ان حصےمیں وفا اور محبت آئی انہیں دیکھ کر اہل فلسطین کی مزید ہمت بندھی کہ لوگوں کے ضمیر زندہ ہیں۔ ان کے دل مظلوموں کے لیے دھڑکتے ہیں ۔وہ ظالم کے مقابل کھڑے ہیں ۔
انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔انہوں نے انسانوں سےہمدردی و محبت کا تقاضانبھایا ،اب سوال ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
کیا باقی اقوامِ عالم کا ضمیر جاگے گا؟
کیا عرب دنیا کی خواب گاہوں میں کوئی ہلچل ہوگی؟
کیا وہ جو میزوں پر بیٹھے قراردادیں بناتے ہیں، منظور کرتے ہیں کبھی میدانِ حق میں بھی اتریں گے؟
غزہ آج بھی جل رہا ہے۔بھوک سے بلک رہا ہے ،بدترین نسل کشی مسلط کی ہوئی ہے کون سا ظلم ہے جو وہاں نہیں کیا گیا۔ لوگ ملبے تلے چیخ رہے ہیں اور عرش ہر روز کسی نہ کسی ماں کی آہ کسی باپ کی فریاد سے لرزتا ہے ۔
اور دنیا؟
دنیا کے حکمرانوں اکثریت دجالی میڈیا کسی خبر کے نیچے چلتے ایک ٹکر آگے نہیں جاتامگر وہ جو ماڈیلن کشتی میں سوار ہوئےجو قافلہ استقامت کے مسافر ہیں، وہ ہمیں یاد دلارہے ہیں کہ ضمیر مر نہیں جاتا۔بس کبھی کبھی قید ہوجاتا ہے اور اس کی آزادی کے لیے بھی کوئی قافلہ درکار ہوتا ہے۔
مسلمان حکمرانوں ،عرب حاکموں کا وقت ہے کہ کیا وہ محض دیکھنے والے رہیں گے؟
یا اپنی اپنی کشتی، اپنے اپنے ضمیر کے ساحلوں سے روانہ کریں گے؟ اس قافلہ کے مسافروں کی تعداد اگر لاکھوں پر پہنچ جائے تو کیا اسرائیلی درندے محاصرہ روک پائیں گے ؟ غزہ کے گرد موجود ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے اور فیصلہ کر نے کا حق و باطل واضح ہوچکا ہے ،موت بر حق ہے مقام طے ہے ،وقت لکھا جاچکا ہے، بس موت راہ خدا میں آئے یا دنیا کے دھندوں میں مصروف یہ فیصلہ ہمارا ہے۔
غزہ کی طرف مارچ کرنے والوں نے اپنے حصے کا فرض ادا کر دیا۔شمعیں روشن کیں ،راستے دکھائے اس راہ پر چراغاں کرنا ہر باضمیر ،فرد کی ذمہ داری ہے بالخصوص ان کی جو غزہ کے پڑوس میں واقع ہیں ۔





































