
نگہت فرمان
سمندر کی لہروں پربڑھتا ہوایہ قافلہ محض کشتیوں کا سفرنہیں،یہ دلوں کی دھڑکن اورضمیروں کی بیداری ہے۔ اس کارواں کو صمود فلوٹیلا کہا جاتا
ہےمگر دراصل یہ انسانیت کا قافلہ ہے۔اس میں رنگ،نسل و مذہب سےبےنیازہوکرہروہ فرد شامل ہےجنہوں نےاپنےضمیرکی پکارپرلبیک کہا۔ان کےنزدیک بس ایک ہی مقصد ہے ،مظلوم انسانوں تک پہنچنا اور ظالم کے حصار کو توڑ دینا۔
یہ کشتیاں جب لہروں پر بڑھ رہی ہیں تو دل ان کےلیے دھڑک رہے،نظریں ان پر لگیں اور لب ان کےلیےدعاگو ہیں کہ ان کی اس کوشش کےنتیجے میں اہل فلسطین کھل کر سانس لے سکیں ۔بھوک سے نڈھال دم توڑتے معصوم لوگوں کو کھانا مل جائے ۔بیماروں کو ادویات اور بے گھروں کو چھت میسر آجائے ۔ روز جو فلسطین کی زمین خون میں نہاتی ہے وہاں خون بہنا بند ہوجائے۔یہ قافلہ دنیا کو یاد دلاتا ہےکہ انسانیت اب بھی زندہ ہے کہ کچھ لوگ ظلم کو دیکھ کر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔
اور ہم؟ہم ساحل پر کھڑے تماشائی ہیں۔ہمارے دل شرمندگی سےبھرے ہیں کہ ہم صرف الفاظ کےچراغ جلاسکےمگران جیسےطوفان شکن قدم نہ اٹھا سکے۔یہ لوگ جنہوں نے ظالم کو للکاراہےاوراپنی جانوں کو مظلوموں کی زندگیوں پرقربان کرنے کےعزم کےساتھ سمندرکا سفراختیار کیا ہے قابل رشک ہیں۔ ہم کچھ نہیں کرسکتےلیکن شرمندگی و ندامت کےاحساس کےساتھ ان کےلیے دعا تو کرسکتےہیں کہ اےرب!ان کےحوصلےکو مزید طاقت دے، ان کے لیے سفر آسان بنااورانہیں کامیابی دےاورہمیں بھی وہ ہمت عطا کرکہ ہم انسانیت کےقافلوں کاحصہ بن سکیں۔
صمود فلوٹیلا میں شریک لوگوتم صرف ایک قافلہ نہیں،تم امید ہومظلوموں کی ۔تم نےثابت کیاکہ مظلوم چاہےکسی مذہب یا خطےسے ہو،اس کا درد سب کا درد ہے اور اس کے حق کے لیے کھڑا ہونا سب کا فرض ہے ۔
دعا ہے کہ تم اپنےمقصد میں کامیاب ہوجاؤظالم تمہیں دیکھ کرلرزیں اورمظلوموں کی آنکھوں میں خوشی کےچراغ روشن ہوں۔آمین ثمہ آمین





































