
نگہت سلطانہ
یہ صاحب پرلے درجے کے نسل پرست جنس پرست اور اسلامو فوبیا کی بیماری میں مبتلا پائےگئے ہیں۔ لندن میں صادق خان کا میئر بننا ان کو تکلیف دیتا
ہے یہ تو ہوا کھلا تعصب۔۔۔
لیکن غزہ کی بربادی، کھڑی عمارتوں کوملبےکےڈھیرمیں تبدیل کر دینا، بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، ستر ہزار کےقریب جیتےجاگتےانسانوں کو موت کی نیند سلا دینا یہ تو جنگی جرائم ہیں عالمی قوانین انسانی حقوق کی سفاکانہ خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں یہ صاحب۔ اک ہم ہی نہیں ہر خاص وعام نفرین بھیج رہا ہے۔۔۔
جی ہاں۔۔۔
نام آپ نےبوجھ لیا اور
مگرآپ یہ بھی کہ رہےہیں کہ یہ سب تو نیتن یاہو نے کیا۔۔۔۔۔
اجی نیتن یاہو کی کیا اوقات سب کو معلوم ہے،ان صاحب کی اجازت اورعملی مدد کے بغیر وہ ایسا دیدہ دلیر اور ڈھیٹ ہو ہی نہیں سکتا۔
بات کی جائے موصوف کے غزہ جنگ بندی کے 21 نکاتی پلان (جو اقوام متحدہ کے اجلاس کےدوران 7 عرب و مسلم ممالک کے قائدین سےسایڈ لائن ملاقات میں موصوف نے پیش کیا)کی تو اس کی صورتحال اس کا ماحول دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ صاحب نیتن یا ہو کو مزید مہلت دے رہے ہیں کہ فلسطین کو مکمل طور پر تباہ کرلو کھل کے اپنے منصوبے پورے کرلو میں ان عرب اور مسلم حکمرانوں کو باتوں میں لگاتا ہوں۔
شاید یہی وجہ ہےکہ تفصیلات نہیں دستیاب ہوئیں اس،عظیم، ملاقات کی تاحال۔۔۔۔
ہاں کچھ اشارے کچھ تجزیے ،تجزیہ کاروں نے سامنے لائے ہیں۔۔۔
موصوف کا پلان یہ ہے کہ وہاں مسلم ممالک کی افواج جائیں اور حماس کا صفایا کریں۔۔۔
یہ نکتہ ایک مفسد ذہن ہی کی پیداوار ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ورنہ ہر کوئی جانتا ہے کہ حماس علامت ہےمزاحمت کی،علامت ہے اپنی زمین کی حفاظت کی، جس کے ساتھ فلسطین کے عوام کی اکثریت کی حمایت ہے ،اس حماس کے ساتھ مسلم ممالک کی افواج کو لڑایا جائے گا ،ہونہہ۔
موصوف کو غزہ کی ،تعمیر نو،کی بھی بڑی فکر ہےلہٰذا مسلم ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ وہاں تعمیرِ نو کریں گے۔۔۔اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسٹر نے انصاف بارے آج تک کوئی سبق پڑھا ہی نہیں۔۔۔۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ پلان کا یہ نکتہ بھی نا انصافی ہی نہیں ظلم ہے یعنی بربادی آپ کریں خون ریزی قتل و غارت گری آپ کریں اور اب تعمیرِ نو کے لیے مسلم ممالک اپنا سرمایہ جھونکیں ۔۔۔۔۔۔۔
ان صاحب کے آگے 7 مسلم ممالک کے حکمران بزدل،بے بس،بے حس مادی ساز و سامان سے لیس مگر قوت ایمانی سے خالی مسلم قیادت، نام مسلمانوں والے اور مسلمانوں ہی پر ظلم پرخاموش رہنے والے ۔
کاش ان میں سے کوئی ایک ہی باغیرت ہوتا تو اٹھ کھڑا ہوتا اوراس 21 نکاتی پلان کے مضمرات پہ انگلی اٹھاتا۔ لعنت بھیجتا ان نکات پر۔۔۔
پلان میں تجویز ہے مسٹر ٹونی بلئیر اگلے 5سال غزہ کے نگران رہیں گے۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔
ٹرمپ
وٹکوف
ٹونی
یاہو
تم لوگ ہوتے کون ہو غزہ کا فیصلہ کرنے والے
تم لوگ جاو اپنے ملک سنبھالو
غزہ کو غزہ والوں کے حوالے کر
لیکن تمہاری اصلیت جو ہے وہی تمھاری نیت ہے
زمین پر اور زیرِ زمیں جہاں جو دولت ہے، اس پر لالچی کتے کی طرح نظریں گاڑے رکھتے ہو جس ملک(شرط یہ ہے کہ وہ کمزور ہو) پہ جی چاہا دھاوا بول دیا۔
اپنے خطے کی کہانی بھلا ہم کیسے بھلا سکتے ہیں۔۔
یہاں تاجر کا روپ دھار کے آئے حقیقت میں ڈاکو تھے تم۔۔۔
آج تک تمہارا لالچ تمہاری بھوک ختم نہیں ہوئی۔۔۔
کاش۔۔۔
کاش مسلم امت متحد ہوجائے۔
اپنا بھولا سبق یاد کر لے
اپنی مشترکہ فورس بنائے
پھر ہم دیکھیں گے کہ تمہاری ڈاکہ زنی تمہاری یہ ہوس ملک گیری کیسے تمہی پہ پلٹ دی جائے گی۔۔۔
اور۔۔۔۔
جناب ٹرمپ !آپ کو خود اپنے ملک میں 76فیصد لوگ ٹھکرا چکے ، مودی آپ کو گھاس نہیں ڈال رہا ، مودی کے دیے زخموں کو چھپانے کی خاطر پاکستان سے جھوٹی محبت کی پینگیں چڑھا رہے ہیں آپ۔۔۔تو پاکستان کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرو جو بے چین ہیں آپ کو نوبل امن پرائز دلوانے کے لیے
شکریہ ادا کرو خود داری و خودی سے خالی ہمارے، دانشوروں، کا جو تمھی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔۔۔
تمہارے سایہ ء عاطفت میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔۔
تمہاری گرتی ساکھ کو سنبھالا دیتے ہیں۔۔
اور
شہادتوں کے سرخ پھول سینوں پہ سجائے جنت کے سفر پہ رواں دواں اے اہل غزہ
آج مصطفی زیدی کی نظم تمہارے نام۔۔۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا
خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































