
نگہت سلطانہ
''خدا آپ کو سلامت رکھے اور طویل عمر دے تاکہ آپ اسی طرح انسانیت کی خدمت کرتے رہیں "
یہ جانے دل کی تمنا تھی یا سامنے والے کی ''جادو اثر'' شخصیت کے اثرات کہ وزیراعظم پاکستان کی زبان پر یہ الفاظ دعا کی صورت مچل گئے ،ورنہ اگر وہ اپنے مغربی آقاوں کی ذہنیت،ان کی نفسیات اور ان کے عزائم سے بخوبی آگاہ ہوتے اور ماضی بعید کی تاریخ نہیں ماضی قریب کی تاریخ ہی سے واقف ہوتے تو یقینا اًپنے آقا کو اس دعا کا نذرانہ پیش نہ کرتے۔۔
ماضی قریب کی تاریخ سے واقف کوئی بھی شخص سربیا کی طرف سے بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کے حالات و واقعات کیسے بھلا سکتا ہے ۔صحافی کرسٹیان امان پور نے کہا تھا' یہ ایک بالکل وحشیانہ جنگ تھی قتل و غارت گری محاصرے اور مسلمانوں کو بھوکا مارنے کی جنگ یورپ نے مداخلت سے انکار کیا اور کہا یہ بوسنیا کی داخلی خانہ جنگی ہے حالانکہ یہ بہت بڑا جھوٹ تھا۔ہمارا خیال ہے اس وقت جب سربیا وحشیانہ قتل و غارت گری میں مصروف تھا تو اس وقت جو امت مسلمہ کی لیڈرشپ تھی انہیں بھی شاہان یورپ و مغرب انسانیت کے خدمت گار نظر آئے ہوں گے۔۔۔
غزہ پر اسرائیل کی بالعموم گزشتہ سات دہائیوں سے اور بالخصوص گزشتہ دو سال سے جاری وحشیانہ مظالم کے دوران جب اکتوبر 2025 میں جنگ بدی معاہدہ سامنے آیا تو ہم نے سوچا کہ آخر کچھ تو انسانیت ہوگی ان شاہان یورپ و مغرب میں ،گو کہ امن معاہدے کے کچھ نکات چیخ چیخ کر ہماری اس خوش فہمی کی نفی کر رہے تھے ,یہاں ان نکات کی تفصیل بیان کرنے کا موقع نہیں ,البتہ ہم مختصر تذکرہ کریں گے اسرائیل کی طرف سے امن معاہدے کی پاسداری کا۔۔۔۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی افواج نے کم از کم 97 فلسطینیوں کو شہید اور 230 کو زخمی کیا( رپورٹ 20 اکتوبر 2025)۔ رپورٹ کے مطابق صرف اتوار 19 اکتوبر 2025 کے روز ہی 21 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
اسرائیلی ڈرونز نے وسطی غزہ کے علاقے دیرالبلح کے مشرق میں واقع القسطل رہائشی عمارتوں کے قریب شہریوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید ہو گئے( 24 اکتوبر 2025)۔
گزشتہ دو سال کے دوران صحافیوں، ڈاکٹروں، طبی عملے ،زخمیوں، مریضوں ،بچوں، حاملہ خواتین اور رہائشی عمارات کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنانے والے اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا تو ایگزیوس کے مطابق اسرائیل نے ان حملوں سے قبل ٹرمپ کو مطلع کیا تھا اسرائیل کو اس کی ڈیمانڈ سے بڑھ کر نوازنے والی ٹرمپ انتظامیہ نے جواباً ضبط کاعنصر شامل کرنے کی تجویز داغ دی تھی۔۔۔۔
ہم نے جہاں سے کالم کا آغاز کیا تھا واپس وہیں چلتے ہیں ہمارے نزدیک پاکستان کی وزارت عظمی کا عہدہ کوئی معمولی عہدہ نہیں ہے پاکستان امتِ مسلمہ کا قائد ہے،واحد ایٹمی پاور ہے۔پوری امت شعوری طور پہ رہنمائی کے لیے پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔ اس عظیم اسلامی مملکت کے ایک وزیراعظم تھے لیاقت علی خان ایک مرتبہ جب وہ امریکہ کے دورے پہ تھے تو وہاں موجود اسرائیلی لا بی نے مشکلات و مسائل میں گھرے پاکستان کے لیے امداد کی پیشکش کی اس شرط پر کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے لیاقت علی خان نے انکار کر دیا اور کہا...
حضرات! ہماری روحیں فروخت کے لیے نہیں ہیں۔
جی ہاں یہی کہا تھا ایک نوزائیدہ مملکت، مسائل میں گِھرے ملک کے وزیراعظم کا۔۔۔۔۔
آج کے مضبوط اور مستحکم پاکستان کے وزیراعظم کیا فرماتے ہیں آپ کو شاید معلوم ہوگا"میں ٹرمپ کو اُن کی مثالی اور بصیرت افروز قیادت پر خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں"ہم اپنے وزیراعظم سمیت امت کی ساری قیادت سے درخواست کریں گے کہ چاپلوسی اور جھوٹی خوشامد سے جو خیرات ملے گی بھی اگر تو وہ ملک و قوم کے لیے مفید ثابت نہیں ہوگی ہر ملک کی تاریخ اس پر شاہد ہے۔
آج بالخصوص عرب حکمرانوں اور بالعموم تمام مسلم حکمرانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکی سرپرستی میں پھلنے پھولنے والے، امریکہ سے ملے اسلحے کے ساتھ ہنستے بستے شہروں کو اجاڑ دینے والے، ہزاروں بچوں کو یتیم کر دینے والے، ایک نسل کو بھوک اور پیاس کے عذاب میں مبتلا کرنے والے، تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسرائیل کے خلاف ایک ہو جائیں۔۔
اور آخر میں ہم سورہ المائدہ کی آیت نمبر 51 کا حوالہ دیں گے جس کا ترجمہ ہے
'' اے ایمان والو یہود و نصارٰی کو اپنا دوست نہ بناؤ! وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔تم میں سے جو کوئی ان سے قلبی دوستی رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا بے۔ شک اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔''
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































