
نگہت سلطانہ
یہ جو بچپن ہوتا ہے یہ زندگی کا کتنا سہانا دورہوتا ہے نا۔۔۔۔۔انتہائی معصوم ۔۔۔۔۔ شرارتیں،کھیل کود اور ۔۔۔۔اور سہانے خواب بھی۔۔۔۔۔
بات کی جائے خوابوں کی تو ہمیں چونکہ جہاز کی سواری بہت پسند تھی ہم خواب میں بھی جہاز اڑایا کرتے اور اس پر سواری کیا کرتے اور اپنے کھیل میں بھی ایک نقلی جہاز بنا کے اس کی آواز منہ سے نکالا کرتے تھے ،جب سن شعور میں قدم رکھا اس خواب کی تعبیر کی جستجو ہوئی۔۔۔
ہمارے تو من میں پی آئی اے سمائی تھی ،ہمیں پی ائی اے سے بھی پیار تھا کیوں بھلا؟
اس لیے کہ اس میں پاکستان کا نام آتا ہے
اس لیے کہ یہ ہماری قومی ایئر لائن ہے
اس لیے کہ یہ دنیا کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے بوئنگ777 -200 ایل آر جہاز حاصل کیے اور چلائے، اس لیے کہ یہ 30 سے زائد طیاروں کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ایئر لائن ہے۔ اس لیے کہ یہ ایشیا کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے جیٹ انجن والے بوئنگ 737 جہاز چلائے۔۔۔
بچپن کے 'خواب جہاز کا سفر 'پی آئی اے سے محبت' ہوائی سفر کے لیے پی آئی اے کا انتخاب ،یہ سب سلسلے ہماری زندگی کا ایک خوبصورت باب ہے
لیکن جس چیز نے ہمیں دکھی کیا وہ پی آئی اے جیسے ادارے کو پہنچنے والے نقصانات ہیں۔۔۔ہمیں دکھی کیا پی آئی اے کے حوالے سے بنے لطیفوں نے۔۔۔یہ دیکھیے اے ائی ہمیں کیا لطیفہ سنا رہا ہے ۔۔
پی آی اے کا مطلب ہے''پہلے اترو پھر آؤ۔۔۔۔
دوسرا لطیفہ
پی آی اے کی پرواز میں تاخیر کی وجہ
آپ کو جلد پہنچائیں گے بس انتظار کریں۔۔۔۔
آپ سوچیں گے لطیفے پر تو ہنسا جاتا ہے جی ہاں لیکن ہم روئے۔۔۔۔۔ہم دکھی ہوئے اس وقت بھی جب سٹیل ملز اور پی ٹی وی اور پی بی سی اور تعلیمی ادارے تک کی نجکاری کے فیصلے ہوئے۔۔۔۔اور آج ہم پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے کو لے کے دکھی ہیں۔۔۔۔ہم حافظ نعیم الرحمن کے الفاظ کو یہاں نقل کریں گے اور بالکل یہی ہمارا بھی رد عمل ہے۔۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا 335 ارب روپے میں بھی فروخت ہوتی تو نہیں بیچنا چاہیے تھا ،حکمران پی آئی اے نہیں چلا سکتے، ٹرانسپورٹ نہیں چلا سکتے، حکمران تعلیمی ادارے اسٹیل ملز نہیں چلا سکتے تو یہ گورنرز کس بات کے۔۔۔۔۔حافظ صاحب کا سوال تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹوں کی ڈگریوں کے جعلی ہونے کے انکشاف پر کیا متعلقہ افراد کا احتساب ہوا؟ جن لوگوں نے ادارے کو نقصان پہنچایا ان کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا؟
قارئین ! زیادہ دیر دکھی رہنا ہمیں پسند نہیں لہٰذا ہم تو اپنے بچپن کے کھیل جہاز جہاز کی یادیں تازہ کرنے جا رہے ہیں کہ جب ہمارا معصوم سا پی آئی اے کا نقلی جہاز اڑان بھرتاتھا اس کی گھن گرج کی آواز ہم اپنے منہ سے نکالتے تھے اور جوں جوں اس کی اڑان بلند ہوتی ہماری روح بھی اسی بلندی پہ سفر کر رہی ہوتی تھی۔۔۔۔
آج پیارے پاکستان کو ضرورت ہے ،ایسے حکمرانوں کی جن کے ارادے پختہ ہوں جن کی سوچ کی پرواز بلند ہو جو چیلنجز کا سامنا پامردی سے کریں جو نہ صرف خود کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں بلکہ اداروں کو نقصان پہنچانے والوں کا بھی بے لاگ احتساب کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور
جو شاعر کی اس نصیحت پہ کان دھریں
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ایسے حکمران جس دن اس ملک کی مسند اقتدار پر بیٹھیں گے اسی دن حقیقی ترقی کے سفر کا اغاز ہو جائے گا۔





































