
طیبہ شاکر
یہ حقیقت ہےکہ " پاکستان " ہم نے اللہ سے اس عہد پرلیا تھا کہ یہاں اسلام کا نظام نافذ کریں گےاسے اسلام کا قلعہ اورلیبارٹری بنائیں گے لیکن
ہم نے کیا کیا؟؟؟؟
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
یہاں آکرہم اپنا مقصد وجود بھول گئے۔ اللہ رب العالمین سے کیا وعدہ پس پشت ڈال دیا،اپنی من مانیاں شروع کر دیں ۔
اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ " اگر تم اپنا وعدہ بھول جائو گے تو میں بھی اپنا وعدہ بھول جاؤں گا " آج ہم راندہ درگاہ ہیں ہماری کہیں شنوائی نہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی نا کہ ہم اپنا وعدہ بھول گئے۔
آج یہاں ہر چیز کا راج ہے سوائے اسلام کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سیکولر بننے کے چکر میں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ آج ہماری حکومت نے ہمارے بچوں کو موسیقی کی تعلیم دینے کے لئے 1500 سو میوزیشن بھرتی کیے ہیں خصوصی مراعات کے ساتھ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ جہاں بچے ابتدائی تعلیم سےمحروم ہوں انہیں " میوزک " سکھایا جائے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ " میں آلات موسیقی توڑنے کے لئے آیا ہوں "اور ہم ہیں کہ اسے نافذ کر کے بہت نازاں ہیں
کمال حیرت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ارباب اختیار سے یہ بھرپور مطالبہ کرتی ہوں کہ اس حکم کو فی الفور واپس لیا جائے ہم اپنے بچوں کو ہرگز "اللہ کا باغی" نہیں بنانا چاہتے جن کو یہ سیکھنا ہے ان کے لئے اور بہت راستے ہیں ۔خدارا!!!! تعلیمی اداروں کو اس بےحیائی کے فروغ سے روکا جائے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنا حق گوئی لینا جانتے ہیں۔
اہل علم حضرات سے گزارش ہے کہ حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کریں اور اس کو ہرگز نافذ العمل نہ ہونے دیں۔




































