
سیدہ سمعیہ اعظم
ٹرانس جینڈر ایکٹ فتنوں کاپہلا قطرہ یا طوفانوں کا چکرہے۔بہت پہلےہی مسلم دشمن اقوام نےہمیں ہماری انفرادی اوراجتماعی خوبیوں سےمحروم کردیا تھا۔
قران کی تعلیم بجائے کامیابی کا نشان انگریزی تعلیم،چست اورعریاں لباس جددت کی نشانی، مردوں اورعورتوں کا باہم مسکرا کے باتیں کرنا خوش اخلاقی، تانک جھانک اوربے حیائی خود اعتمادی، قناعت پسندی کے بجائے جو چاہے وہ کیسے بھی طریقے سے حاصل کرنے کی چاہ، فحاشی کا فروغ، مہنگائی کا طوفان، رشوت کا بازار اور یہ فتنے تو جاری تھے
تابوت کی آخری کیل میں ایک ٹرانس جینڈر بل ہے۔ حدیث نبوی ﷺ ہے جب تم حیاء نہ کرو پھر جو چاہے کرو ۔قرآن مجید میں بھی اللہ تعالٰی عدل احسان اور حیا کا ساتھ ذکر کیا ہے۔یعنی جو لوگ حیا نہیں کرتے وہ عدل اور احسان سے بھی ان کا تعلق نہیں ایک سیاسی جماعت کے لیڈرپراس خاص فتنے کا الزام ہے۔ویڈیو وائرل ہیں ۔ آج تک ناصفائی دی گئی ، نا ہی کوئی کیس ہے،یہ ہی نامورپارٹی جس نے اس بل کو فخر یہ انداز میں پیش کیا،جیسے انہوں نے تمام پاکستانیوں کےنام اپنی اورپارٹی ارکان کی جائیداد کردی ہو۔ ان کے ایک لائق وزیر اپنے مقابل پارٹی کے وزیرکے بارےمیں ذومعنی گفت گو کرتے ہیں اور ادارے بے حیائی کی حرکات پرتو شاید سنگسار کرنا چاہے تھا کیونکہ یہ الله کی سنت بھی ہے،جو قوم لوط کو عطا کی گئی مگر افسوس عدل وانصاف بھی تو فتنوں کی نذر ہے۔یہ مسلم دشمن اقوام ہماری تعداد ،غیرت اور حیاء کے دشمن ہیں اور ہمارے سیاستدان ان کے ہاتھ اور دماغ بن کرملک چلا رہے ہیں ،لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ نشان زدہ پتھر الله کےہیں اور خاموش رہنے والے یہ سوچیں جب قوم پرعذاب آتے ہیں تو چپ عابدوں کے گھر بھی شامل ہوتے ہیں ۔اے الله ہمیں ان فتنوں سے محفوظ فرما اور ہمارے شمار کوشش کرنے والوں میں کر۔




































