
عطیہ جمال
اری شبو کوئی دس مرتبہ تمہیں آواز دی ہے۔۔دیکھ سالن جل گیا ہے۔۔۔ صالحہ بیگم کی غصہ بھری آواز آئی چند لمحوں کے سکوت کے بعد جواب آیا بس دو
منٹ میں آتی ہوں بالائی منزل سےآوازآئی جس کو پکارا گیا تھا وہ نہیں آئی صرف آواز آئی غور کریں۔۔۔۔۔۔
یہ ایک درمیانہ اوسط درجہ کا گھر آنا ہے۔تین بچے میاں بیوی اورماں (صالحہ بیگم) شبانہ شبو کہہ کر پکاری یا بلائی جاتی ہےجو احمد کی بیوی ہے صالحہ بیگم کی دوبارہ آوازآئی اس شیطانی چر خےسے نکل بھی آ۔
یہ دجالی فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ہے۔ارے ماں کیوں خفا ہو احمد نےکمرے میں داخل ہو کرسلام کیا۔ السلام علیکم رات کے کھانےکی تیاری کا وقت ہو رہا ہے۔ احمد نے با آواز بلند بیگم کو آواز دی ۔۔۔۔۔ بس آئی ابھی میں آفس سے ایک گھنٹہ پہلے آ چکا تھا تمہیں خبرہی نہ ہوئی کہ پانی دانے کا پوچھتی تم کس طرح کی عورت ہو۔۔۔۔۔۔ اچانک بجلی کے چلے جانے اور موبائل کی بیٹری ماند پڑ جانے پرشبو صاحبہ کا خیال نچلی منزل پر آباد لوگوں کی طرف مڑ گیا اور وہ حواس کی دنیا میں لوٹی۔
آدھے گھنٹے پہلے دوپٹے کا پلو ہلا کر مستقل متوجہ کرتی حرا (بیٹی) مجھے یہ سوال کروا دیں بھئی جلدی کریں۔۔۔۔۔ مجھے باقی ہوم ورک مکمل کرنا ہے۔شبو کو یاد آئی جلدی چلیں شبو تیزقدم سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی یہ سماج کی تین تصاویر ہیں جو ہمارے گھروں کا عکس پیش کرتی ہیں جہاں ہم وقت ضائع کر رہے ہیں، یہاں روئیےبگڑ رہے ہیں تو اس نے انٹرنیٹ کی مصروفیات اور موبائل کی وجہ سے گھروں کی فضا مکدر ہو رہی ہےفساد جڑ پکڑ رہے ہیں ۔
چھوٹی تلخیاں بڑی تلخیوں کا سبب بن رہی ہیں اور جب شبانہ کے گھر کی طرح دیگر گھروں میں یہی معاملے ہوں تو سماج کا متاثر ہونا تو لازمی امر ہے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ شبو کیا کرے۔۔۔ جلدی کرو حرا شبانہ نے بیتابی سے حرا کو پکارا۔۔۔ بچی بیچاری کیا کرتی ہاتھ باندھےماں کی آوازپر لپکین کیا کروں بتائیں نا۔۔۔عقل خراب ہوگئی ہے میری ۔۔۔۔ منہ ہی منہ میں شبانہ بڑ بڑائی۔۔۔ ہاں بالکل احمد نے بلند آواز میں کہا ۔حرا ہوم ورک مکمل کرلو میں کھانا نکالتی ہوں۔ ۔۔ کیا پتھر پکاؤ گی سالن جل چکا ہے۔۔۔۔ تمہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے کہ نہیں احمد نے کہا میں بازار سے سالن لے کر آتا ہوں۔۔۔۔ یہ آج کی مدد ہے ۔ یہ کہتا ہوا احمد دروازے کی طرف چل دیا ۔۔۔ کل ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ غور کریں کہیں ہم تمام قوم اسی طرح کی سرگرمیوں میں یوں ہی وقت کی کرنسی کو ضائع کر رہے ہیں جہاں ہمارا نقصان زیادہ فائدہ کم ہے غور کریں ہے نا ایسا ہی۔




































