
مریم آصف
کیسے با برکت لوگ ہیں جن کے تھنک ٹینکس دین اسلام کے بارے میں سوچتے ہیں صد مبارکباد قطرکی حکومت کےلئے جس نے اپنی دینی ،تہذیبی اور ثقافتی اقدار کو اجاگر
کیا ہے۔
قطر مشرق وسطی کا وہ پہلا اسلامی ملک جس نے فیفا ورلڈکپ 2022 کا کامیاب انعقاد اپنےملک میں کیا۔یہ بلاشبہ حیران کن بھی ہے اور باعث حیرت بھی۔ آج جبکہ پوری دنیا میں اسلام کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا گیا ہے۔ قطر نے کس طرح ایک عالمی ایونٹ کے لئے دنیا کو اپنے ملک میں آنے پر راضی کیا بلا شبہ یہ ان کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے لیکن دوسری طرف انہوں نے جس طرح اس ایونٹ کو اسلام کی تبلیغ و ترویج کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اس نے کھیل کے نام پر اپنا پیسہ اسلام کے لئے انویسٹ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے:فیفا ورلڈ کپ اسلامی تعلیمات متعارف کرانے کا سنہری موقع ہے۔ان کا مقصد غیر مسلم شائقین کو اسلام کا اصل چہرہ دکھانا اورمغربی معاشرے میں پائی جانےوالی بے شمارغلط فہمیاں کو دورکرنا ہے۔عام طور پر ایسے بڑے ایونٹ جس ملک میں بھی منعقد ہوتے ہیں وہاں اخلاقی بے راہ روی کے تمام دروازے کھول دیےجاتے ہیں۔یہاں سے ہی وہ تہذیبی فرق نمایاں ہوتا ہے جو اسلام اورکفر کی پہچان بنتا ہے۔ قطر نے دنیا کو باور کرایا ہے کہ قومیں اپنی تہذیبی یلغار سے زندہ اور اس کی پامالی ہی سے مردہ ہوتی ہیں۔اقبال نے کیا خوب کہا ہے
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
قطرورلڈ کپ کے سیکیورٹی چیئر مین کا کہنا ہے کہ ہم محض اٹھائیس دن کے لئے اپنامذہب نہیں بدل سکتے ۔ ہم اپنے ملک میں آنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن آنے والوں کو ہماری روایات کا احترام کرنا ہو گا۔
فیفا ورلڈ کپ کےآغاز سے پہلے سٹیڈیم کا افتتاح سو حافظ بچوں سے کرایا گیا اور با جماعت نماز ادا کی گئی۔ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جو انسانی وحدت اور حسن سلوک سے متعلق تھی۔
اسلام کا پیغام عام کرنے کے لئے قطر نے ملک بھر کے معروف سینکڑوں علمائے کرام کو اپنے ملک میں بلایا تا کہ ایونٹ کے دوران غیر ملکی شائقین کے سامنے اسلام کا روشن چہرہ پیش کیا جا سکے۔ مساجد میں خوبصورت اور سحر انگیز آوازوں والے مؤذن مقرر کیے گئے۔تمام مساجد کو اسلامی میوزیم طرز پر پیش کیا گیا اور ایونٹ دیکھنے کے لئے آنے والے لاکھوں شائقین کے لئے اسلام سے متعلق منفی تصورات تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔
قطر نے ثابت کر دیا ہے کہ کھیل کے کامیاب انعقاد کے لیے شراب و موسیقی،حرام فوڈ کی دستیابی،بس ہم جنس پرستی کا فروغ ضروری نہیں بلکہ اسے اپنی روایات کی عکاسی کرتے ہوئے بھی کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔الحمد للہ قطر نے ثابت کیا ہے کہ غیور اقوام نہ صرف اپنے روایات کا احترام کرتی ہیں بلکہ احترام کروانا بھی جانتی ہیں۔




































