
اقراءملک
کاش مجھے اتنی اجازت ہوتی اور میں اتنی خود اعتماد ہوتی تو میں اس انسان کے پاس جاتی اوراس کا گریبان پکڑ کرصرف اتنا کہتی ،"تم نے کبھی محبت
کی ہی نہیں ۔ اگر کی ہوتی تو شاید تم اس تکلیف کاسوچ کر ہی کانپ ا ٹھتے جس سے میں گزررہی ہوں۔ خیر تم سے شکوہ نہیں ہے کیونکہ جب میں نے اپنے اپ کو تمہارے سپرد کیا تھا اس وقت میں یہ بھول گئی تھی کہ تم بھی آدم زاد ہو۔
میری یہ باتیں شاید وہ اس لمحے ان سنی کر دے اور مجھ کو محبت میں اندھی کہہ کرچلاجاۓ مگر جس دن اس کو کسی سےمحبت ہو گی تب شاید اس کو اپنی کی ہوئی زیادتی یاد آجائے۔ جب وہ پلٹ کر دوبارہ میرے پاس آۓ گا تو شاید اس وقت میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوں گی۔ وہ پھر سے میرا ساتھ مانگے گا میں تب بھی اس کا ہاتھ تھاموں گی اور الله سے ایک بار پھر سے زندگی مانگوں گی اورجب وہ مجھ سے سوال کرے گا کہ میں نے اس سے بدلہ کیوں نہیں لیا تو میں صرف اتنا کہوں گی :"میں نے محبت کی تھی ، وفا کی تھی ،عشق کیا تھا ،میں نے بادل بننے سے بارش برسنے تک تمہارا انتظار کرنے کی قسم کھائی تھی۔
میں تم سے کیا وعدہ توڑ سکتی تھی ،دنیا سے جھوٹ بول سکتی تھی لیکن اپنے دل سے بے وفائی نہیں کر سکتی تھی۔پھر بھی تمہیں میری محبت بچگانہ لگتی ہےتو میری موت میری محبت کی گواہ ثابت ہو گی اورتمہیں مجھے الوداع کہنے کی مہلت بھی نہیں ملے گی۔




































