
نگہت سلطانہ
بہت ہو گیا
بس۔۔۔
اب تمہیں زباں کھولنی ہوگی
ارے ظلم کی انتہا ہے انتہا
میرے منہ پہ ہاتھ نہیں رکھوکہنے دو مجھےکہنے دو۔
اس سےپہلےایک مرتبہ صابرہ اور شتیلہ کا تذکرہ کرنا چاہا تم نے میرا منہ بند کر دیا۔۔
اور۔۔۔۔۔
آج۔۔۔۔ ک۔۔۔ کیا کہا؟ گریبان چھوڑ دوں تمھارا۔۔۔؟؟
کیوں ؟ آخر کیوں؟؟؟؟؟؟
اب یا تو تم زبان کھولو گے یا میری گرفت مزید سخت ہوتی جائےگی
کیا تمہیں دل کی گہرائیوں میں اس ارض مقدسہ کے لئےمحبت وعقیدت نہیں، محسوس ہوتی ؟ کہ جہاں سارے انبیائےکرام نے خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت میں نماز اداکی تھی۔
تمہیں اس مقدس مقام ، قبہ الصخرہ سے بھی کچھ انسیت محسوس نہیں ہوتی کیا ؟ کہ جہاں خیرالبشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے براق کھڑا تھا شب معراج میں۔۔۔۔
تم نےکہا فلسطین کا غم تمہارا غم نہیں،مسئلہ ء فلسطین عربوں کا مسئلہ ہے۔ یہ کہا اور زباں سی لی تم نے۔
کہنے کو تو مسلمان ہو
شرم تم کومگر نہیں آتی۔
جانتے نہیں کیا؟؟
"تمام مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم درد محسوس کرتاہے"
ہاں ہاں صحیح کہ رہے ہو یہ الفاظ اسی ہستی کےہیں جس کا تذکرہ ابھی ہوا۔۔۔
تو۔
اب بتاؤ ذرا کہ جب صابرہ وشتیلہ کمپوں پرعیسائی تنظیم کی ننگی جارحیت اسرائیلی وزیراعظم، ایریل شیرون، کی نگرانی میں کی گئی ،نہتے فلسطینی مہاجرمرد عورتیں جوان بوڑھےخون میں نہلا دئیے گئے، معصوم بچوں کےجسم کے چیتھڑے اڑادئیے گئےتھے۔
یہ قصہ سنا کرتم سے محض یہ تقاضا کیا تھامیں نے کہ ایریل واشنگ پاوڈرخریدنا بند کر دو ، کٹ کیٹ اور کے ایف سی کا بائیکاٹ کردو۔ پیپسی اورسپرائٹ تو یوں بھی صحت کےلئےمضر ہیں۔ تم نے تب میرا مذاق اڑایا تھا کہ اس سے کیا فرق پڑے گا۔۔۔۔
تو آج میں کہتا ہوں کہ اٹھو ۔۔۔۔جاؤ ان ابابیلوں میں شامل ہو جاو جو ہاتھیوں کے لشکر پہ قہر بن کے ٹوٹ رہی ہیں۔۔
کیا کہا؟ کیا کہا؟؟
،مشکل ہے،،
خدا کی قسم جی چاہتا ہےہاتھوں کی گرفت اس قدربڑھادوں کہ دھمک تمہارے اس علاقے میں جائے جہاں دل نہیں پتھررکھا ہے۔۔
"میں بے بس ہوں "
یہ کہ رہے ہونا نہیں نہیں نہیں
میرے بھائی ! ایسا نہیں ہے
بتاؤ ذرا کہ ۔۔۔ اپنی تاریخ یاد رکھنے میں کوئی کیونکر بے بس ہوسکتاہے؟؟؟
تم ایک معلم بھی ہو تو کیا تم نے اپنے شاگردوں کوصلاح الدین ایوبی(رح) جیسے ہیروز کے بارے آگاہی دی؟؟؟
تم نےیہودی مصنوعات کابائیکاٹ کیا اوراس سلسلے میں کیمپین چلائی ؟؟؟
تم نےصیہونی تنظیم بارے مطالعہ وتحقیق کی ؟؟؟
تم نےان اسباب پہ غوروخوض کیا کہ جن کے باعث مسلم امت خاص طور پہ عرب دنیا کمزور ترہوتی گئی ؟؟؟
تم نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےشیروں ،حماس کےغفاری و قہاری و قدوسی و جبروت مجاہدین بارے معلومات اکٹھی کی؟؟؟
لوگوں کے ساتھ شئیر کی یہ معلومات ؟؟؟
بیٹھواور ذرا دھیان سے میری بات سنو میرے بھائ۔۔۔
میرے سوز جگر کومحسوس کرو
ہم لوگ نبی کی شان میں بس راگ الاپتے رہ جاتے ہیں اور ہمارے دشمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے اصول اخذ کر کے کامیابی پا جاتے ہیں۔۔۔
سنو تاریخ کے ایک باب سے ایک واقعہ۔۔۔
اسرائیل کی واحد خاتون وزیراعظم گولڈا مئیر ( 1969 تا 1974 ) کہتی ہے کہ 1973 میں جب عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔ ایک دن امریکی اسلحہ کمپنی کا دفاعی کنٹریکٹراس سے ملنے آیا سودے کی شرائط زیر بحث آئیں۔ بالآخر گولڈا مئیر نے کہا،،ہمیں سودا منظور ہے ۔اگلے دن یہ فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھا کابینہ نے ملک کی کمزور اقتصادی حالت کے پیش نظر اس سودے کی سخت مخالفت کی۔
گولڈا مئیر نے کہا ،،جب ہم فاتح قرار پائیں گے تو تاریخ یہ نہیں دیکھے گی ہم نے کتنےفاقےکئے کتنی بار دن میں کھانا کھایا۔فاتح بس فاتح ہوتاہے۔کابینہ نے منظوری دے دی۔ اور پھر اسی اسلحے سے اسرائیل نے عربوں کوشکست دی۔
بعد میں واشنگٹن پوسٹ نے گولڈامئی کا انٹرویو لیتے ہوئے پوچھاکہ ،، دفاعی بجٹ کاسودا طے کرتے ہوئے جو دلیل آپ نےدی تھی وہ اچانک اس وقت ذہن میں آئی یا پہلے سے دماغ میں تھی ؟
گولڈامئیر نے جواب دیا،، میں نے بچپن میں مسلمانوں کےنبی کی سوانح حیات پڑھی تھی۔ میں نے پڑھا تھا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کاوصال ہوا تو ان کے گھر میں چراغ جلانے کے لئیے تیل تک نہیں تھاان کی زوجہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ بکترگروی رکھ کر تیل کا بندوبست کیا مگراس حالت میں بھی حجرے میں 9 تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں سوچتی ہوں آج کتنے لوگ ہیں جنھیں اس وقت(دور نبوی) کی کمزور اقتصادئ حالت کے بارے علم ہے لیکن یہ حقیقت ساری دنیا جانتی ہے کہ ان فاقہ کشوں نے آدھی دنیا فتح کرلی۔
بس میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم اسلحہ ضرور خریدیں گے چاہے ہمیں مسلمانوں کی طرح بھوکا رہنا پڑے اورپکے مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی گزارنی پڑے۔۔۔تم نے اپنے بچوں کوکل کےمعماروں کو یہ واقعہ سنایا؟؟ کیا خود تمھارا یقین ہے اس حقیقت پر کہ دنیا میں قوت کے ساتھ جینے کاحق اسی کو ہے جو پیٹ کو نہیں اپنی غیرت کے تحفظ کو مقدم جانے۔
تو۔
اٹھو۔
میرے بھائی ! اب ندامت سے گردن نہیں ڈال دو، کچھ کرنے کاعزم باندھو۔۔اٹھو کچھ کام میں کرتا ہوں کچھ تم کرو۔۔۔ہاں ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔
اسرائیل کی غزہ پر فاسفورس بموں سے بارش کے خلاف مظاہرے کے لئے بینرز تم تیار کرو اور وزیر خارجہ اور انسانی حقوق کی وزارت اوراو آئی سی وغیرہ کو ای میل میں کرتا ہوں۔۔۔
یارمراکش تا انڈونیشیا مسلم قیادت کوغیرت دلانی ہوگی ،شائد ہمارا کوئی لفظ ان کی غیرت خفتہ کو بیدار کردے۔۔۔




































