
آمنہ عثمانی
افف گرمی۔۔۔۔ نومبر کا مہینہ شروع ہوگیا اوریہ گرمی ختم نہیں ہورہی۔دن میں بھی لو چلتی محسوس ہوتی ہے اوراکثر راتیں بھی گرم ہیں۔
کیا کبھی سوچا ہے کہ سردی کے موسم میں یہ گرمی کیسی!؟یہ ہمارے اعمال کی گرمی ہے۔بچپن میں ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ نو اور دس محرم کو خاص طور پر گرمیاں س لئے زیادہ ہوجاتی ہے کہ نواسئہ رسول اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس خون بہایا گیا۔ معصومین کا خون بہایا گیا۔۔۔۔۔۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس دن کربلا کی مٹی بھی لال ہوجاتی ہےاور آج۔۔۔۔۔ آج بھی کربلا بپا ہے۔ امت رسول کا ناحق خون بہایا جارہا ہےاور تمام مسلم ممالک کوفی کردارادا کررہے ہیں۔۔۔۔۔ آج ہم سب کوفیوں کی صف میں کھڑے ہیں ۔
روز محشر کس طرح ہم اللہ کےسامنے کھڑے ہو سکیں گے؟ ہے کوئی راستہ ؟
کس طرح رسول اللہ کو اپنامنہ دکھا سکیں گے؟ ہے کوئی ذریعہ ؟ شدید جرم میں مبتلاہو کربھی ہم پشیمان نہیں۔۔۔۔۔۔ پھرکس طرح ہم یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ روز محشر رسول اللہ ہماری مغفرت کے لئے اللہ سے فریاد کریں گے۔
ہم کس طرح سوچ سکتے ہیں کہ روزمحشر حوض کوثرسے جام کوثرپی سکیں گے؟
کیا امت مسلمہ اتنی بانجھ ہوگئی کہ اس میں کوئی صلاح الدین ایوبی ،کوئی محمد بن قاسم ،کوئی طارق بن زیاد نہیں۔امت مسلمہ تو جسد واحد ہےتو پھر یہ مجرمانہ خاموشی کیوں؟
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
بیت المقدس بھی ہماراحرم ہے۔اگراس کو بچانے نہیں کھڑے ہوئے تو پھر سوچ لوکہ محشر قریب ہی ہے پھرکیا کرو گے،جب مہلت عمل ختم ہو جائے گی اور صرف کاش رہ جائے گا۔




































