
ام حسن
حضرت حسن نصف رمضان سن تین ہجری میں پیدا ہوئے ی،ہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بڑے صاحبزادے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے نواسے تھے۔ آٹھ سال تک یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے، ان کے ساتھ کھیلتے، ان کو اپنے کندھوں پر بٹھاتے۔ حضرت حسن 49 ہجری میں زہر دیے جانے سے وفات پا گئے۔
حسین نام حضرت حسین خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دوسرے صاحبزادے، ان کی کنیت ابو عبداللہ ان کی پیدائش ہجرت کے چوتھے سال ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے نواسے کربلا کے شہید ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خوشبودار پھول ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں.(جامع ترمذی)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ تعلق کےچند واقعات۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعوت میں جا رہے تھے دیکھا کہ گلی میں بچے کھیل رہے ہیں ان میں حضرت حسین بھی کھیل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر ان کی طرف آئے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا تو یہ آپ سے ادھر ادھر جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ کھیلتے کھیلتے ان کو پکڑ لیا آپ نے اپنا ایک ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا ہاتھ ان کے سر کے پیچھے حصے پر رکھا پھر آپ نے ان کو چوما پھر چھوڑ دیا اور چلے گئے۔(ابن ماجہ و احمد)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جذبات کا بھی خیال رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں یعنی ظہر یا عصر میں سے کسی نماز کے لیے باہر تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ان کو ایک طرف بٹھا دیا اور نماز کے لیے تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دی۔ جب آپ سجدے میں گئے تو خوب لمبا سجدہ کیا۔ عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اتنا لمبا سجدہ کیوں ہے؟ تو میں نے دیکھا کہ بچہ آپ کی پشت پر سوار ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے تو میں پھر سجدے میں چلا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے آج بہت لمبا سجدہ کرا دیا۔ ہم سمجھے کوئی حادثہ ہو گیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا البتہ میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خواہش کی تکمیل سے پہلے جلدی میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا اچھا نہ سمجھا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں دن کے کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلا ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما رہے تھے اور نہ میں نے کچھ عرض کیا (یعنی ہم دونوں خاموش تھے) یہاں تک کہ بنو قینقاع کے بازار میں گئے۔ یہ یہودیوں کا بازار تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چل پڑے ی۔ہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گھر تشریف لے آئے ،پھر فرمایا یہاں چھوٹو ہے۔
آپ کی مراد حضرت حسن سے تھی ،ہم نے سمجھا ان کی والدہ انہیں روک رہی ہیں۔ انہیں نہلا کے ان کے گلے میں خوشبودار ہار یعنی لونگ کا ہار ڈال رہی ہیں وغیرہ کچھ دیر گزری کہ وہ بھاگتے ہوئے آئے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے سے گلے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے تو اس سے بھی محبت فرما۔(صحیح مسلم باب فضائل حسن و حسین)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے حسن اور حسین کھیلتےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر آکر بڑھ جاتے۔ایک مرتبہ مسلمانوں نے انہیں دور کیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوے تو فرمایا ان کو چھوڑ دو۔ میرے ماں باپ ان پہ قربان ہوں۔ جو مجھ سے محبت کرے اسے چاہیے کہ وہ ان دونوں سے محبت کرے۔(صحیح مسلم باب فضائل صحابہ) یعنی اگر واقعی اللہ کے رسول سے محبت ہے تو ان دونوں سے بھی محبت کرنی چاہیے کہ جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح گھر سے اس حال میں نکلے کہ اپنے اوپر ایک ایسی چادر اڑے ہوئے تھے۔ جس پر سیاہ بالوں سے نقش بنے ہوئے تھے۔ اسی دوران حضرت حسن آگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی چادر کے اندر کر دیا۔ پھر حسین رضی اللہ تعالی عنہ آئے۔ آپ نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کر لیا پھر ،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آئیں۔ آپ نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کر لیا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آئے آپ نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کر لیا۔ (یعنی محبت کا ایک خوبصورت انداز) پھر فرمایا! اے اہل بیت اللہ تعالی ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گناہوں کو دور کر دے اور تمہیں پاک کر دے (فضائل اہل بیت صحیح مسلم 6261)
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے حسن کو اپنی گردن یا کندھے پر بٹھا رکھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر. (جامع ترمذی)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کے بیٹے اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی ایک ٹانگ پر بٹھاتے اور حضرت حسن یا حسین کو دوسری ٹانگ پر بٹھا دیتے۔
قیامت کے دن بھی حسن اور حسین آپ کے ساتھ ہوں گے اگر ہم چاہتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ ہمیں میسر ہو تو ہمیں چاہیے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے ساتھ بہت محبت کریں۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے۔
المرء مع من احبه(حدیث 245 صحیح بخاری)




































