
ام حسن
ولقد خلقنا الانسان في احسن تقويم
اورتحقیق ہم نے انسان کو بہترین تخلیق کیا
اللہ نے انسان کو باقی مخلوقات سے بڑھ کر ایک خوبصورت سانچے میں ڈال کے تخلیق کیا ہے.
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا
ولقد كرمنا بني آدم
تحقیق ہم نے بنی آدم کو عزت دی۔
اللہ تعالی نے جہاں پر انسان کو بہترین تخلیق کیا اور اسے عزت دی اسےعلم دیا، وہیں اللہ تعالی انسان کو اس کی اصل اور جس طریقے سے وہ بنا ہے، وہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان کس معمولی چیز سے تخلیق کیا گیا ہے۔
خلق الانسان من علق
اللہ تعالی کہتے ہیں کہ میں نے انسان کو علق سے پیدا کیا یعنی گوشت کالوتھڑا جو رحم مادر میں جا کر ایک مکمل انسان بناتا ہے۔
سورہ مومنون میں اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی پوری تخلیق کے بارے میں پے در پے ہونے والے عوامل کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔
ثم خلقنا النطفه علاقه فخلقنا العلقه مضغة فخلقنا مضغة عظاما فكسونا العظام لحما ثم انشاءنه خلقا اخر فتبارك الله احسن الخالقين
پھر نطفے کو ہم نے جمع ہوا خون بنایا، پھر خون کے لوتھڑے کوگوشت کا ٹکڑابنا دیا، پھرگوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اسے پیدا کر دیا، برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہے۔
یہاں اللہ تبارک و تعالی نے انسان کی تخلیق کو پے در پےرحم مادر میں ہونے والےمراحل سے گزاراہےکہ پہلے ایک پانی کی بوند ہوتا ہے، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے، پھر گوشت کے لو تھڑے میں اللہ تعالی عزام یعنی ہڈیاں ڈال دیتے ہیں اور ہڈیوں پر مناسب گوشت چڑھاتے ہیں، اس کے بعد ایک وقت مخصوص تک اس کی خوبصورتی مکمل ہونے کے بعد وہ دنیا میں نمودار ہوتا ہے۔
اگر انسان صرف گوشت کا لوتھڑا ہوتا تو اس میں چلنے پھرنے کی بیٹھنے،اٹھنےکی صلاحیت نہ ہوتی اور اگروہ ہڈیاں ہوتا تب بھی یہی معاملہ تھا کہ اس کی وہ خوبصورتی برقرار نہ رہتی۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالی نے ایک مناسب گوشت ان ہڈیوں پر چڑھایا ہے۔ کہیں سے گوشت کم کہیں پرتھوڑا زیادہ لیکن ایسا نہیں کہ انسان کہیں سے بھدا محسوس ہو، یہ اللہ کی تخلیق کا ایک بہترین شاہکار ہے۔
اللہ تعالی آگے ارشاد فرماتا ہے
ثم سواه ونفخ فيه من روحه وجعل لكم السمع والابصار والافئده قليلا ما تشكرون
پھر ٹھیک ٹھاک کر کےاس نے روح پھونکی اس نےتمہارے کان،آنکھیں،دل بنائے،اس پر بھی تم بہت ہی کم احسان مانتے ہو۔
اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کو بہترین تخلیق کرنے کے بعد بھی انسان اپنے وجود پرغور نہیں کرتا کہ شکر گزار بنے۔
اس بہترین انسان کو تخلیق کرنے کے بعد اللہ تعالی دنیا میں بھیجتا ہے اورعلم حاصل کرنے کے لیے شعوردیتا ہے۔ اپنےانبیاء کو بھیج کررہنمائی کرتا ہے اور اس سے اپنی بندگی کا مطالبہ کرتا ہے،یہ انسان بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی دہلیز پار کر کے اپنے اللہ کے پاس واپس جاتا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
كل نفس ذائقه الموت
ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے
اللہ تعالی اس دنیا میں ایک مخصوص وقت کے لیے انسان کومختلف آزمائشوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے کےبعد واپس اپنی طرف بلاتا ہے۔ ہر انسان کو اس کے پاس واپس جانا ہوتا ہے ،چاہے وہ ہزار سال جی لے۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، یہاں پر مسلسل اللہ کی فرمانبرداری انسان کےلیے مطلوب ہے۔ اس کی اس جدوجہد کا صلہ اللہ تعالی نے جنت کی صورت میں رکھا ہےجو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا ہے اس کے لیے جنت سے محرومی ہے۔اللہ تعالی ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرمائے اور ہم سے ایسے کام لے جس کے ذریعے ہم جنت کے مستحق ٹھہریں ۔آمین۔




































