
ام حسن
جانشین سید ابرار کی باتیں کریں
مصطفی کے پہلے پہلے پیار کی باتیں کریں
جن کی نظروں میں ہمیشہ جلوہ جانا رہا
عاشقوں کے قافلہ سالار کی باتیں کریں
نبی صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم کو جب نبوت ملی تو اپنے بیگانہ ہو گئے لیکن وہ صدیق اکبر ہی تھے جو سب سے پہلے ایمان لے کر آئے, یہ وہ صدیق ہیں کہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موجودگی میں 17 نماز ادا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی قوم کے لیے یہ جائز نہیں کہ صدیق ان کے اندر موجود ہوں اور نماز کوئی اور پڑھائے۔
"امیر المومنین ہیں آپ امیر المسلمین ہیں آپ
نبی نے جنتی جن کو کہا صدیق اکبر ہیں"
یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں فرمایا کہ "اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا" توصحابی کا لقب اللہ تبارک و تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو خود عطاء کیا۔
اللہ نے فرمایا "ثانيه اثنين اذ هما في الغار" ۔ثانی اثنین کا لقب اللہ تعالی نےدیا صدیق اکبر کو، اللہ اکبر،کیا ہی عظیم شان بات ہے، کہ دو کا دوسرا کیا خطاب ہے سبحان اللہ۔
"جو یار غار محبوب خدا صدیق اکبر ہیں
وہی یار مزار مصطفی صدیق اکبر ہیں"
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوتا ہےتومختلف لوگ یہ باتیں کرنےلگتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دم سے اسلام تھا، نماز تھی، روزے تھے، زکوۃ تھی اب جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں ہیں تو وہ رونق ختم ہو گئی۔ ایک طرف منافقین کی یہ باتیں تھیں اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسائل کا بہت بڑا غم صدیق اکبر کے سینے میں تھا۔ لیکن انہوں نے کھڑے ہو کر اس وقت لوگوں کو سنبھالا اور"فرمایا کہ لوگو اگر تم محمد رسول اللہ کی عبادت کرتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تو انتقال ہو گیا اور اگر تم اللہ کی عبادت کرتےتھے تو اللہ حي لا يموت "
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی کا اللہ تعالی کا ہم پر احسان ہے کہ صدیق اکبر کے ذریعے سے ہمارے ایمان کی حفاظت کی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شدت غم سے تلوارلےکےکھڑے ہوئےاورفرمایا اگرکسی نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر سنی تو کہنے لگے کہ ایسا لگا کہ جیسے یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےبعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کےخلافت کی کچھ باتیں پہلے ہی بتا دی تھیں۔ جیسے کہ امامت کروائی اور اس کے علاوہ ایک خاتون آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بعد میں آنا تواس نے کہا کہ اگر آپ نہ ہو یعنی مراد یہ تھی کہ اگر آپ کا وصال ہو گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تو ہوں گے ابوبکر کے پاس آجانا۔
"شب ہجرت بھی تھا جوہم سفر محبوب داورکا وہی وارث بنا سرکار کے محراب ممبر کا"
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے۔ صدیق اکبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ اور امن کے ساتھی، حضر اور سفر کے ساتھی، یہاں تک کہ زندگی کے بعد قبر کے بھی ساتھی رہے۔صدیق اکبر کی شان میں کیا ہی کہوں وہ ایسے صحابی ہیں کہ جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ احادیث تو نہیں کہی لیکن جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے حضرت ابوبکر ساتھ، جہاں اٹھے ابوبکر ساتھ، جہاں گئے ابوبکر ساتھ، جہاں آئے وہاں ابوبکر ساتھ تو شان بیان کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔
ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ وہ صحابی تھے کہ جنہوں نے امت کو صحیح راستہ دکھایا اور ارتداد کے سارے راستے بند کر دیے باوجود بہت حلم اور بردباری کے بہت نرم مزاج ہونے کے جب خلیفہ کی ذمہ داریاں آئیں تو اپنے کندھوں پر یہ بوجھ برداشت کیا اور اس کا حق ادا کیا۔ آپ کی شان میں کتنا ہی لکھوں کم ہے۔ آپ کی شان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ آخر میں بس کچھ اشعار۔
" وہ پہلا مددگار پہلا صحابی نبی نے جسے ہر قدم پر دعا دی ۔
وہ افضل بشر بعد از انبیاء ہے
وہ جانے صداقت وہ جانے وفا ہے
فرشتے اسی کی اداؤں پہ عاشق
اسی کے نمازوں دعاؤں پر عاشق
وہ نبیوں سے کم تر اماموں سے اعلی
محمد سے ہر دم وفا کرنے والا
وہ صدیق اکبر جس کا لقب ہے
وہ پہلا خلیفہ وہ پہلا ادب ہے




































