
ام حسن
عدو دین سے ٹکرانا مجاہدین سے سیکھو
جہاں میں دین پھیلانا مجاہدین سے سیکھو
لگا کر جان کی بازی فقط ایک امر ربی پر
خدا کے قرب کو پانا مجاہدین سے سیکھو
جو ہوں گے پیش محشر میں بدن مسمار کر کے یہ
وہ مر کے پھر سے مسکانہ مجاہدین سے سیکھو
اللہ کے ولی کی صفت یہ ہے کہ مجاہدین اپنی تمام تر صلاحیتیں اللہ کے دین پر قربان کرنےکے لیے ہروقت تیار رہتےہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا بجا بشارتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا تو نہیں ہوئے کہ امت کے بہترین لوگ صحابہ کو دیکھ سکتےمگر آج کےبہترین لوگ یہ مجاہدین ہیں جنہوں نے صحابہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان مجاہدین کی ایک تنظیم حماس ہے جس کو شیخ محمد یاسین نے بنایا اور ان کی شہادت کے بعد خالد مشعل اور اس کے بعد اسماعیل ہنیہ نے حماس کی سیاسی قیادت سنبھالی۔
اسماعیل ہنیہ نے بہت سخت سیاسی لڑائیاں لڑیں۔ یہ وہ مرد مجاہد ہےجس نےاسرائیلی قید و بند کی صعوبتیں اورجلاوطنی برداشت کی مگر ان کے عزم و استقلال میں کسی قسم کی کمی نہیں پائی گئی۔یہ وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے ہر پلیٹ فارم پر فلسطین اور القدس کی آزادی کا مسئلہ لڑا اوراسرائیل کو کبھی تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا جس کی ان کو بڑی قیمت چکانا پڑی۔ان کے خاندان، اولاد کے 60 سےزیادہ افراد کو شہید کر دیا گیا لیکن دنیا یہ جان لے کہ یہ قوم اپنے لیڈروں کی موت سے نہیں ٹوٹتی بلکہ بچے اپنے باپ، دادا سے زیادہ سخت اور مضبوط ہوتے ہیں۔یہ تنظیم کبھی اپنے لیڈر کی وجہ سے ختم نہیں ہوئی بلکہ اور مضبوط ہوئی ہے۔لہذا اس مرد مجاہد نے اپنا تمام مال، اولاد اور پھر اپنی جان راہ خدا میں قربان کر دی۔ اللہ ان کی قربانیوں کو اقصی کی آزادی کے لیے قبول فرمائے۔ آمین
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی




































