
ام حسن
القدس کا ایک حسین اثاثہ ہے سنوار
دلوں کی دھڑکنوں کا خوبصورت خلاصہ ہےسنوار
زعم تھا ظالموں کو کہ ایک اسماعیل گیا تو سب گیا
نشے میں بھول گئے تھے کہ اک قائد سنوار بھی ہیں
اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس نے یحیٰی سنوار کو اپنا نیا قائد مقررکر لیا ہے۔ یہ ان فلسطینی والدین کی اولاد میں سے ہیں جن کو عسقلان سےہجرت پر مجبور کر دیا گیا اور 1948 کے بعد وہ غزہ کے سب سے بڑے کیمپ خان یونس میں آ کرآباد ہوئے اور یہیں پرسن 1962 میں یحیی سنوار پیدا ہوئے۔
اسرائیل ان کو اپنے لیےانتہائی خطرناک سمجھتا ہے اس لیے یہ اسرائیل کوانتہائی مطلوب ہیں۔
ظالموں کی نیند اڑانے آیا ہے سنور
مظلوموں کی آنکھ کا تارا ہے سنوار
یحییٰ سنوار جب حماس قائم ہوئی تو اس کے دوسرے نمبر کے سربراہ مقرر ہوئے۔ حماس کو شکست دینے کے لیے اسرائیل نے اپنے جاسوس حماس میں گھسا دیے جو اسرائیل کو ساری رپورٹ کرتے اور اسرائیل اس جگہ حملہ کر لیتا لہذا یحیی سنوار نے اس کی تحقیق کی اور چار فلسطینیوں جو کہ جاسوس تھے قتل کر دیا۔ اسرائیل نے سنوار کو فورسز قتل کے الزام میں چار بار عمر قید کی سزا سنائی۔ اس طرح ان کی زندگی کی مشکل دن شروع ہوئے۔ وہ 1989 سے 2011 تک اسرائیلی قید میں رہے اور شدید اذیتیں برداشت کیں۔
جوانی جس نے ظلم و جبر کی قید میں گزاری
آج گرج کر جھپٹ پڑا ہے یہ سنوار
پھر 2011 میں اسماعیل ہنیہ شہید کی کوشش کامیاب ہوئی اور ایک اسرائیلی فوجی کے بدلے 1026 قیدیوں کی رہائی ہوئی جس میں یہ بھی شامل تھے۔
یحیی سنوار حماس کے نمایاں رہنماؤں میں سے ہیں ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں۔ ان کو طوفان الاقصیٰ کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ گل یہ فضائیں سبھی کہتے ہیں
الشیخ واسماعیل کے بعد تمہیں القدوس کی امیری مبارک ہو شیخ الطوفان




































