
ام حسن
بچے قدرت کا ایک خوبصورت شاہکار ہیں اوراللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ ہیں،جنہیں اللہ نےاس
نعمت سے نوازا۔ چھوٹے چھوٹےمعصوم بچوں کی خوبصورت شرارتیں پریشان سےپریشان حال انسان کے چہرے پرمسکراہٹیں بکھیر دیتی ہیں۔ ان کی ننھی ننھی ادائیں دل کو بھاتی ہیں، ان کی معصوم شرارتیں انسان میں زندگی کی رمق پیدا کردیتی ہیں۔ جوگھر بچوں سے محروم ہیں وہ زندہ قبرستان کی مثال ہیں۔
کبھی کسی بچے کی شرارت پربہت غصہ بھی آئے توبچے آگے سےایسی پیاری سی ادائیں دکھاتے ہیں کہ غصہ توکہیں دور، مسکراہٹ آنےلگتی ہے۔یہ اللّٰہ کی ایسی معصوم مخلوق ہے کہ کسی بھی رنگ، نسل، قوم یا مسلک سے تعلق رکھنے والے ہوں لیکن ان کی معصوم ادائیں ہردل میں اپنا گھر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ آج فلسطین کے معصوم بچوں کے لیے دنیا بھرکےلوگوں کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور ان کی تکلیف کسی سے دیکھی نہیں جاتی۔
بچےہرطرح کی انسانی برائیوں سے پاک ہیں۔ لڑنا،جھگڑنا اور دو منٹ کےاندرواپس شیروشکر ہوجانا ان کی فطرت کا حصہ ہے، یہ ضد، حسد، بغض اور تمام برائیوں سے مبرا ہیں۔
اللہ تعالی کی یہ نعمت ہمارے لیے ایک کڑی آزمائش بھی ہے اور ان کی بہترین تربیت کرنا ہمارا فرض عین بھی ہے۔جہاں ہم ان کی معصوم شرارتوں سے محظوظ ہوں وہیں ان کی تربیت کرنا اور ان کو معاشرے کا ایک بہترین انسان بنانا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس ذمہ داری میں کامیاب کر دے آمین۔




































