
ام حسن
احمد پانچویں جماعت کا نہایت ذمہ دار اور ہونہار طالب علم تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔
ایک دن جب وہ گھر آیا تو بہت خوش تھا۔ کہنے لگا امی۔۔۔ امی دیکھیں، میں نے یوم دفع کے لیے تقریر لکھی ہے۔ آپ ایک طائرانہ نگاہ ڈال لیں۔ امی نے کچھ اصلاح کے بعد تقریر کا پرچہ احمد کو واپس کردیا۔ دوسرے دن اسکول کے ہال میں سب بچے جمع تھے۔ احمد اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ جب احمد کو اسٹیج پر بلایا گیا تو احمد نے اپنی تقریر کا آغاز بہت ہی خوبصورت اشعار سے کیا۔
قسم ہے ہمیں اپنے تازہ لہو کی
قسم زندگی کی قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کبھی آنچ آنے نہ دیں گے
محترم اساتذہ کرام اور میرے عزیزساتھیو
السلام علیکم! مجھے آج جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے، وہ ہے، ”یوم دفاع پاکستان۔
دنیا میں تمام قومیں اپنے ملک اور قوم کی دفاع میں خاص دنوں کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی یاد مناتی ہیں۔ اسی طرح یوم دفاع پاکستان، 6 ستمبر 1965 کو اپنے جانبازوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے دشمن کے ناپاک ارادوں کو اپنے شوق شہادت اور جذبہ حب الوطنی سے ناکام بنایا۔
6 ستمبر 1965 کو جب بھارت جیسے چالاک اور مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں اچانک لاہور کی طرف پیش قدمی شروع کی تو افواج پاکستان نے اپنی قوم کے ساتھ مل کر اپنے سینوں پر بم باندھےاور دشمن کو واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔ ہمیں ہمیشہ اپنی فوج اور اپنے سپاہیوں پر فخر ہے یہ ملک کی شان ہیں۔ قوم کے ان جانبازوں نے وطن عزیز کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا ۔
چھ ستمبر ہمیں اپنے ان شیر دل جوانوں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو ان کے ارادوں میں ناکام بنایا جو اس خواب کو آنکھوں میں سجائے ہوئے آئے تھے کہ لاہور میں ناشتہ کریں گے۔ ہماری بہادر افواج نے انہیں ایسا مزیدار لنچ کرایا کہ وہ رات کا کھانا کھانا بھول گئے۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ احمد کچھ توقف کے بعد پھر گویا ہوئے۔
ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں دشمن کے پانچ طیارے گرائےتو دوسری طرف میجر عزیز بھٹی جیسے جانثاروں نے اپنے لہو سے اس وطن عزیز کی حفاظت کر کے تاریخ میں اپنے نام امر کر دیے۔
شہید کی جو موت ہےوہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوۃ ہے
ہال ایک دفعہ پھر تالیوں کی ضد میں تھا۔ بچے بہت شوق سے احمد کی تقریر سن رہے تھے۔ احمد نے اپنی تقریر پھر شروع کی۔
یوم دفاع پاکستان ہمیں اس بات کی بھی یاد دلاتا ہے، کہ جب جب قوم کو ضرورت پڑی تو اس ملک کے ثپوت ہمیشہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہے اور اس وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہے۔ پاکستانی قوم کو اپنے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ہمیشہ سے ناز ہے۔ جب کبھی پاکستان پر کوئی ناگہانی آفت آئی، یا کسی نے ناپاک ارادے سے پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھا تو پاکستان کی مسلح افواج نے غیور عوام کے ساتھ مل کر سرحدوں کی حفاظت کی۔1965 کی جنگ میں فوج نے جذبہ جہاد اور وطن عزیز کی محبت سے سرشار ہو کر جو کارنامے دکھائے قوم ہمیشہ ان کی قدر اور احترام کی نگاہ، سے دیکھتی ہے۔
ہم حق پر جان لٹائیں گے ہم شوق شہادت والے ہیں
وہ ساتھ ہمارا ترک کر دے جو موت سے ڈرنے والے ہیں
ہم شاہین ہیں پہاڑوں کی غلامی نہیں کرتے
سر قلم بھی ہو جائے ہم کبھی سر جھکایا نہیں کرتے
احمد نے اپنی تقریر ختم کی تو ایک زوردار نعرہ لگایا، پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔




































