
ام حسن
خبر کیا ہے؟
پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اورسوشل میڈیا۔۔۔میں جو چیز مشترک ہے، وہ ہے "خبر" خبر میں ہمیشہ کچھ نیا جاننے، کی اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ،سیکھنے کا شوق، ہرتخلیقی ذہن انسان میں پایا جاتا ہے۔ اب ہم آتے ہیں کہ خبر کیا ہے؟ خبر کے عناصر کیا ہیں؟ چھ کاف کیا ہیں؟ خبر کی کتنی قسمیں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
خبر کی تعریف
خبرنگاری کا فن ہزاروں سال پرانا ہے۔خبر کی اسلامی نکتہ نظر سے تعریف یوں کی جاسکتی ہے۔
قرآن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔
يا ايها الذين امنوا ان جاءكم فاسق بنباء فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين.
ایمان والوں اگر فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلےکر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو پھراپنے کیے پر پچھتاؤ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر پہنچانے کے کچھ اصول بتائے ہیں۔ خبرپہچانے والے کے بارے میں معلوم ہونا چاہیےکہ وہ فاسق تو نہیں کیونکہ خبر کے سچے اور جھوٹے ہونے کا مداراسی پر ہے۔
اس قرآنی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے خبر کی یہ تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی ایسے واقعے کو صحیح نقل کرنا جس کے معلوم ہونے میں فائدہ ہو،نقصان نہ ہو، لہذا اسلامی نکتہ نظرسے خبر کی تعریف کچھ اس طرح سے بیان کی جا سکتی ہےکہ ”خبر کی روایت انسانی استطاعت کے مطابق واقع کی حد تک درست ہو اسی طرح جس کے بارے میں یہ خبر دی جارہی ہے اس سے کسی قسم کا ضد، حسد اور نقصان پہنچانے، تہمت لگانے کا ارادہ نہ ہو۔“
ڈاکٹرعبد السلام خورشید نے خبر کی تعریف کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے، ”خبر کا تعلق ایسے واقعات اور مشاہدات سے ہوتا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہوں۔“
مغربی صحافیوں نے خبر کے بارے میں کہا ہے؟
"لارڈ نارتھ کلف" برطانیہ کے ممتاز صحافی ہیں۔ انہوں نےخبر کی تعریف کچھ یوں کی، وہ کہتے ہیں۔ ”کوئی بھی غیر معمولی واقعہ خبر ہے جب کہ کوئی عام واقعہ خبر کے زمرے میں نہیں آتا۔“
"ولبسٹر" نے خبر کو تازہ واقع کی رپورٹ کا نام دیا ہے۔
"وال آرون" نے خبر کی تعریف اپنی کتاب پروپیگنڈا اور خبر، میں کچھ ایسے کی ہے۔ ”ایسا واقعہ جو مانوس اور معلوم کی دنیا کے متعلق قاری کے تصورسے مختلف ہوتا ہے یہ متصادم قوتوں کی کشمکش کا نام ہے۔
"کارل وارن" نے خبر کی تعریف کی ہے۔ "خبر عموما وہ رپورٹ ہوتی ہے جو پہلے سے عام لوگوں کو معلوم نہ ہو اور جو قاری اور سامعین کی دلچسپی کے لیے ہو۔"
اس طرح خبر کی تقریباً بیسیوں تعریفیں کی گئی ہیں، ایسی کوئی تعریف نہیں جس پر تمام صحافی متفق ہوں۔
چھ کاف کیا ہیں؟
خبر بنیادی طور پر دواجزاء پرمشتمل ہوتی ہے۔ پہلا جزابتدائیہ اور دوسرا تفصیلات کہلاتا ہے۔ابتدائیہ وہی اچھا ہوتا ہے جس میں چھ کاف کےجواب دیے جائیں۔ چار، پانچ جواب سے کم ہوں تو ابتدایہ کو نامکمل سمجھا جاتا ہے۔
چھ کاف کا مطلب" کیا؟ کیوں؟ کون؟ کیسے؟ کب؟ کہاں؟" ہے۔
چھ کاف والے ابتدائیہ کی ایک مثال:
سات اکتوبر 2023 میں حماس نے اسرائیل پر دفاعی حملہ کیا۔ حماس کے لیڈر نے کہا کہ ارض مقدس فلسطینی قوم کا ہے۔ فلسطینی قوم اسرائیل کے ظلم و ستم کو اب مزید برداشت نہیں کرے گی اور قابض اسرائیلیوں کے خلاف جہاد کرے گی۔یہ خبر کا ابتدا یہ ہے۔ خبر کا پہلا جز، اس میں کافی تفصیل ہے جوکہ دوسرے جز میں بیان ہوگا۔
ابتدائیہ کے اندر چھ کاف، کاف نمبر ایک: "کیا ہوا؟" جواب ہے: "بیان دیا" کاف نمبر دو: "کس نےبیان دیا؟" جواب ہے: "حماس کے لیڈر" کاف نمبر تین: "کیا کہا؟" جواب ہے۔ قابض اسرائیلیوں کے خلاف جہاد۔ کاف نمبر چار: "کب کہا؟" جواب ہے.سات اکتوبر 2023 کو: سوال نمبر پانچ "کسے دھمکی دی؟" جواب ہے: "اسرائیل کو: سوال نمبر چھ: "کہاں حملہ کریں گے؟" جواب ہے۔ اسرائیل پر۔




































