
ام حسن
ماں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سےایک عظیم نعمت ہے۔اس دنیا میں ماں کا ثانی ملنا مشکل ہے۔ خود اللہ تعالی نے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ماں کا لفظ چنا ہے۔
قرآن مجید ماں کی تکلیف کو اس طرح بیان کرتا ہےاور ہم نے انسان کو جیسےاس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخر کار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑوانا ہوتا ہے۔ (سورہ لقمان ترجمہ تفسیر ابن کثیر)
کہ نو مہینے ماں تکلیف پر تکلیف برداشت کرتی ہے۔ پھر دو سال تک دودھ پلاتی ہےلیکن ماں وہ ساری تکلیفیں بھول جاتی ہےجب بچہ اس کی گود میں آتا ہے۔پھر نہ رت جگے اور نہ دن کی بے آرامی ماں کو محسوس ہوتی ہے۔
ماں ہر وقت اپنے بچے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور اسے اپنی آغوش میں رکھتی ہے۔مگر وہی بچہ جب عدم تحفظ کا شکار ہو کر ظلم کا شکار ہوتا ہے تو ماں پر ایک قیامت صغری برپا ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی کتنی مائیں ہیں فلسطین میں جو ہر روز اپنے بچوں کو کھیلتا، کودنا، ہنستا، مسکراتا دیکھنا چاہتی ہیں لیکن فلسطین میں پچھلے کئی ماہ سے ہر روز قیامت کا منظر ہے۔
وہاں کے بچے کہیں محفوظ نہیں، نہ ہسپتالوں میں، نہ اسکولوں میں، نہ پناہ گزیر کیمپوں میں ظلم اور بربریت کا ہرطرف راج ہے۔ ایک ماں جب اپنے بچے کو سکول یا باہر کسی کام سے بھیجتی ہےتو آنکھیں واپسی کی راہ دیکھتی ہیں اور جب واپسی میں بچہ خون آلود ہو تو ماں کے لیے یہ برداشت کرنا ناممکن کی حد تک مشکل ہوتا ہے۔
ایسی ہی ایک تصویر میرے سامنے سے گزری جس میں ایک ماں جب اپنے بچے کی لاش دیکھتی ہے۔جو انتہائی خون آلود ہے ، وہ اس کے چہرے پر پیار کرتی ہے اور کہتی ہے اے اللہ میں نے اسے مسجد اقصی کے لیے تحفے میں دیا یہ تصویر صرف ایک تصویر نہیں بلکہ دلوں کو دہلا دینے کےلئے ، آنکھوں کو نم کرنے کے لئے، جذبات کو ابھارنے کے لیے، اس تصویر نے ہر ماں کی دل کی دھڑکن کو بے ربط کر دیا ہے۔ماں پر گزرنے والے اس وقت کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔فلسطینی مائیں بہت عظیم ہیں۔ اللہ تعالی ان کی ان قربانیوں کو قبول فرمائے۔ اللہ تعالی تمام ماؤں کی گودیں بھری رکھے اور کبھی ان کو ایسے مناظر نہ دکھائے۔ آمین۔




































