
ام حسن
کلاس کے تمام ساتھی بڑے انہماک سے باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک ایک خبر آئی۔تمام یونیورسٹی بند کردی گئی ہے۔ اچانک یوں یونیورسٹی بند
ہونے کی خبر سن کر طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑی۔ معلوم کرنےپرپتہ چلا کہ ایک سیاسی جماعت نے ہڑتال کی کال دے دی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی کے حالات کافی خراب تھے اور ایک ہڑتال مختلف حادثات کا سبب بن جاتا تھا اور پورا شہر تھوڑی ہی دیر میں بند ہو جاتا تھا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ جو جہاں ہوتا وہیں پناہ لینے کی کوشش کرتا۔ گاڑیوں اور دکانوں پر توڑ پھوڑ کی جاتی اور بسوں کو جلایا جاتا۔ لاٹھی بردار اور اسلحہ بردار جوان شہریوں کو انسان ہی نہ سمجھتے تھے۔
اس مشکل وقت میں یونیورسٹی سےنکلنے کےلیے اورگھر تک پہنچنے کے لیے طلبہ، طالبات کو فوری طور پر جو چیز میسر آئی وہ تھا ایک کلاس فیلو کا رکشہ، جی ہاں اس مشکل وقت میں رکشے نے کافی ساتھ دیا۔
کلاس کی تقریباً چھ سے سات طالبات اور تین سےچارطلبہ اسی رکشے پرسوارہونےکی ممکن کوشش کرنے لگے۔ ساتھ میں یہ ایک تفریح بھی بن گئی کچھ طالبات اندر جاتی اور پھر سیٹل ہونے کے لیے کچھ اور طالبات رکشے میں بیٹھتی اور اس طرح ہنستے ہنستے بڑی مشکل سے رکشے میں سوار ہونے میں کامیاب ہوئے۔کچھ جسم کی بھاری طالبات رکشے میں بیٹھی اوران کی گود میں قدر کمزور اور دبلی طالبات نے جگہ لی اور طلبہ رکشے کے ادھر ادھر کھڑے ہو گئے یوں یہ رکشہ ایک حیران کن منظر پیش کر رہا تھا۔
یونیورسٹی کی گیٹ تک پہنچ کر ہم نے اپنا رخت سفر باندھا اور کلاس فیلوز کو اللہ حافظ کیا۔ اب ہم اس مشکل میں تھے کہ گھر کیسے پہنچیں گے بہت سی دعاؤں کے بعد ایک رکشہ ملا جس میں سوار ہو کر ہم اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ابھی گھر کافی دور تھا کہ سواری کو آگے جانے نہیں دیا گیا اور ہمیں راستے میں ہی اترنا پڑا۔ رکشے والے کو پیسے دے کر جب ہم اس سڑک پر تھوڑا آگے گئے تو معلوم ہوا کہ کچھ جوانوں نے ٹائر جلائے ہوئے ہیں اور روڈ بلاک ہے لہذا گلیوں میں گزرتے ہوئے کافی دیر کے چلنے کے بعد گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔امی جو کافی دیر سے ہماری منتظر تھی۔ جب ہمیں بخیر و عافیت دیکھا تو شکرانے کا سجدہ ادا کیا اور ہم دونوں کو گلے لگا کر پیار کیا ماں کی خوشی دیدنی تھی۔ اس وقت ہمیں احساس ہوا کہ ماں کا دل بچیوں کے گھر آنے تک ان میں ہی لگا رہتا ہے۔




































