
ام حسن
دنیا بھرمیں موسم سرما کا آغازہوچکا ہے۔کہیں سردی کم اورکہیں زیادہ ہے۔جب سردی کی آمد ہوتی ہےتوتقریباً تمام دنیا میں لوگ سردی کی تیاری
زورو شور سےکرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی مختلف رنگوں سےموسم سرما کا استقبال کیا جاتا ہے جہاں ضرورت سے زائد گرم کپڑے موزے،جوتے اور کئی کئی سویٹر،مفلر اور طرح طرح کے کمبل، رضائیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ نرم گرم بستروں میں آرام دہ گھروں میں ہیٹر استعمال کیےجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رات کے اوقات میں موسم سرما کی سوغات مثلاً مونگ پھلی، گجک، پیٹھا اورخشک میوہ جات سےلطف اندوز ہوا جاتا ہے جبکہ
سردیوں کی شاموں میں جب سردی بہت بڑھ چکی تھی حسن اورعلی بالکل چپ چاپ بیٹھے تھے۔ دونوں بہت اداس تھے۔کچھ دن پہلے وہ اپنی امی ابو کے ساتھ سردیوں کی ان شاموں میں گرم پکوان کے مزے لے رہے تھے اورآج وہ اس دنیا میں تنہا تھے کیونکہ اسرائیل کی اس درندگی میں وہ اپنے ماں باپ کوکھو چکے تھے۔ان حسین لمحات کی یادوں کو اپنے سینے میں دبائے سردی کی اداس شامیں گزارنے پر مجبورتھے۔ جی ہاں یہ فلسطین کے بچوں کی ایک جھلک ہے۔
ذرا چشم تصور سےفلسطین میں خود کو دیکھیےتو وہاں کےحالات کا جائزہ لیا جاسکتا ہےنہ کہ وہاں گھرہیں نہ بازار،نہ ہسپتال ہیں نہ ہی اسکول، نہ سردی وگرمی سے بچاؤ کی کوئی صورت۔ کھلے آسمان تلے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے یار ومددگار بیٹھے ہوئے ہیں اور سب سے بڑی بات کےہرخاندان کےکچھ افرادشہید ہوگئے ہیں،کہیں بوڑھا باپ رہ گیا ہے۔تو کہیں کوئی نومولود بچہ، کہیں کوئی لاوارث ماں ہے، تو کہیں بے گھر بیٹی، ایسے میں ہمیں فلسطین کےبچوں کا خیال کیوں نہیں آتا؟ کیا ہم بھول گئے ہیں ان بوڑھے ماں باپ اور نومولود بچوں کو؟ جو سردی کی راتوں کا تنہا مقابلہ کر رہے ہیں۔ خوراک اور پانی کی کمی نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پانی کی تلاش میں میلوں چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد کریں۔
وہاں موٹے کپڑوں، سردی سے بچنے کے لیے کمبل اورخیموں کی ضرورت ہےلہذا ہم میں سے ہر ایک کو ایک مسلمان کا درد محسوس کرتے ہوئے اپنی سی کوشش کرنی چاہیے باقی اللہ ان کا حامی و ناصر ہے وہ ان کے لیے کافی ہے۔ اس نے ان کے دلوں میں جو سکون ڈالا ہے اس کا ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔اس دفعہ کا موسم سرما بہت درد لائے ہوئےہےجہاں ہم اپنے گھروں میں آرام دہ بستروں میں موجود ہیں وہاں ہمارے مسلمان بہن بھائی کھلےآسمان تلےسردی سے ٹھٹھررہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی زبانوں پرحسبنا اللہ و نعم الوکیل ہے، یقیناً یہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں پرسکینت کا نزول ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کی مدد فرمائے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم ان کی مدد کر سکیں۔آمین




































