
ام حسن
اکیسویں ویں صدی میں دنیا نےبہت تیزی سےترقی کی ہے،جہاں انوینشنزاورٹیکنالوجی کی بہتات ہوئی ہے،وہیں انسانی رویوں پر بھی اس کا گہرا اثر پڑا ہے۔
اسی لیے انسانوں کا انسانوں سے تعلق کم اور مشینوں پر انحصار زیادہ ہو گیا ہے۔
ایسے حالات میں مسلمانوں کو بہت چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔اپنی اقدار،روایات، اسلامی کلچر کو برقراررکھنے کے لیےجدوجہد جاری رکھنے کی ضرورت ہے اورنسل نو پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پوری امت اس وقت ایک مایوسی کی کیفیت سےدوچار ہے۔ اس سے نکالنے کے لیے جس میں جو صلاحیت ہو اس کو بروئے کار لائیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو بھی معمولی نہ سمجھیں بلکہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کوششیں جاری رکھیں تو انشاءاللہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان پھر سے اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کریں گے، اس کے لیے خود بھی اور اپنے بچوں کو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اللہ کے قانون کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کو،ان کی زندگی میں لانا ہوگا، پھر اللہ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ ہوگی۔ ان شاءاللہ۔




































