
ام حسن
آج جس موضوع کی طرف توجہ دلانےکی ضرورت محسوس ہوئی وہ نسل نو کی غیروں کی تہذیب،روایات اورایام کی اندھی تقلید ہے،جو انتہائی تشویشناک بات
ہے ۔ نسل نو کیلئے یہ جاننا اورانہیں یہ بتاناضروری ہےکہ کرسمس ہے کیا؟نوجوان دینی تربیت اور تعلیم نہ ہونےکےسبب ہرمذہب اوراس کے تہوار کوبغیرسوچے سمجھے اپنااور منا رہے ہیں جوایک المیہ ہے۔
ہولی،دیوالی،پتنگ بازی ، کرسمس، ویلنٹائن ڈے ہو یا پھراپریل فول ہم مسلمان بغیرسوچےسمجھےاوران تہواروں کی حقیقت کوجانے بغیر انہیں اپنا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ من تشبه بقوم فهو منهم کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان میں سےہے۔اس کےساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل غورہےکہ ان میں سےکچھ تہوار اسلامی روایات کےسخت خلاف ہیں،اس کےباوجود مسلمان اسےخوشی خوشی منانےلگے ہیں،جیسے اگر ہم کرسمس کولیں تونوجوان کرسمس کےموقع ایک دوسرے کو ہیپی کرسمس کہہ رہےہوتے ہیں۔ ”نعوذباللہ“ کیا یہ الفاظ ادا کرتےہوئے کبھی ہم نے سوچا کہ ہم اللّٰہ کےساتھ شریک بنایاجا رہا ہےاورہم اس پرخوشی کا اظہار کررہے ہیں ۔
لہذاہماری اولین ذمہ داری ہےکہ بچوں کوآگاہی دیں۔ان کو اپنے مذہب پرعمل کرنے کے ساتھ ساتھ فخرکرنا سکھائیں۔اسلام کوکسی اورمذہب کے تہوارکی نقالی کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا کہ
اپنے مذہب پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی




































