
ام حسن
دروازے پر دستک ہوئی۔ احسن نے دروازہ کھولا۔باجی اپنے بچوں کےساتھ تھیں۔ بچوں نےماموں کو سلام کیا۔ احسن کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ احسن زور
زور سے پکارنے لگا۔۔۔ امی امی۔۔۔۔۔۔ دیکھیں کون آیا ہے۔ نانی تو جیسے بچوں پر فدا ہو گئیں۔ باجی کو بھی بہت پیار کیا ہے۔ باجی لاہور میں رہتی تھیں اور یوں اچانک کراچی آکرانہوں نے ہمیں سرپرائز دیا۔
بچوں کو نانی کے گھر پر یوں موبائل میں مصروف دیکھ کر باجی کو اپنی بچپن کی یادوں نےآن گھیرا۔باجی نے امی اور ہم سب کو مخاطب کیا۔ میں جب اپنے بچپن کی یادوں کے جھروکوں میں جھانکتی ہوں تو نانا، نانی کا گھر بہت یاد آتا ہے۔ وہ بڑے سے آم کے پیڑ تلے ہم بچوں کا جھولے جھولنا، وہ نانا، نانی کی چارپائیوں کا درخت کے نیچے بچھے رہنا، وہ خالہ اور ماموں لوگوں کا گپ شپ کرنا اور ہمارا اس باغیچے میں کھیلنا، کودنا کیاریوں سے خوبصورت پھولوں کی مہک اور آموں کی سوندھی سوندھی خوشبو، درخت کے نیچے بیٹھنے کا لطف اورٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے دل کا مسرور ہونا۔
رات کے وقت رات کی رانی کی خوشبو اور مٹی پر پانی کے چھڑکاؤ سے مٹی کی بھینی بھینی خوشبو۔یادہےامی۔۔۔ جب لائٹ چلی جاتی تھی تو سب باغیچے میں آتے اور آم کے درخت کے نیچے آموں کی زبردست خوشبو سےمحظوظ ہوتے اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے کیسی تازگی بخشتے تھے۔ نانا جان اور نانی جان ہم سب کو اکٹھا کر کے بات چیت کرتے تھے۔ امی۔۔۔ آپ کو یاد ہے نا، آپ اور ہم سب ماموں، خالہ اس درخت کے نیچے نانا جان سے پڑھتے بھی تھے۔ کتنا اچھا وقت تھا۔ آج تو ہمارے بچے اس وقت کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ اکٹھے ہو بھی جائیں تو یا تو موبائل سے متعلق بات ہوتی ہے یا پھر موبائل ہی میں لگے رہتے ہیں۔ نہ علم سیکھنے کا شوق رہا ،نہ آپس میں محبتیں۔ وہ درخت بھی کتنا اداس ہوگیا ہے۔ اس کی رونق ہی ختم ہو گئی۔ امی کیوں نہ ہم درخت کی رونقوں کو بحال کریں اور پھر سے درخت کے آنگن کو آباد کریں۔ جب شام ہوئی تو سب درخت کے نیچے بیٹھیں۔ لیکن یہ کیا؟ وہ تو سب موبائلوں میں مصروف ہیں۔ اچانک باجی کو ایک خیال سوجھتا ہے اور وہ سب سے کہتی ہیں چلو بچوآؤ آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ باجی سے کھیل کی بات سن کر سب بچے اپنے موبائلوں کو چھوڑ کر باجی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یوں ہم سب مل کر پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے درخت کی رونقوں کو بحال کرتے ہیں۔
بچے بڑے سب کھیل میں اتنےمصروف ہو جاتے ہیں کہ کسی کوموبائل کا خیال ہی نہیں رہتا۔ سچ ہے! اگربڑے، بچوں کو وقت دیں اور ان کے ساتھ کھیلیں، تو بچوں کی موبائل میں دلچسپی ختم ہو جائے، چونکہ آج کل بڑے، بچوں کو وقت نہیں دیتے، اسی لیے ہماری آنے والی نسل موبائل میں زیادہ دلچسپی دکھا رہی ہے۔




































