
ام حسن
امامہ دادی جان کی الماری میں کچھ تلاش کررہی تھی جب اس کی نظرایک بڑی سی چابی پر پڑی۔ وہ چابی ہاتھ میں لیےداری جان کے پاس آئی اور پوچھنے
لگی۔ دادی جان! یہ کس چیز کی چابی ہے؟ دادی اسےدیکھ کر مسکرائیں اور ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
کہنے لگیں آو بیٹھو! اس چابی سے ایک سچا واقعہ جڑا ہے۔ 1948 کی بات ہے جب ہم فلسطین کے شہر یافا میں رہتے تھے۔ وہاں ہمارا بہت خوبصورت گھر تھا ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے شہر یافا میں بہت خوشی خوشی رہتے تھے لیکن پھر یہودیوں نے ہماری زمین اور ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا۔ گھر والے کیپ میں چلے گئے اور میں پڑھنے کے لیے مصر آگئی بعد میں پتاچلا کہ ہمارے گھر والوں کو شہید کر دیا گیا ہے پھر میں واپس کبھی نہیں جاسکی۔
وقت اور لمحے برف کی طرح پگھلتے جارہے ہیں لیکن میں نے یہ چابی رکھی ہےکہ ایک دن اس چابی سے آپ لوگ فلسطین میں اپنے گھر کا دروازا ضرور کھولیں گے۔ امامہ نے دادی جان کی بات پہ پرعزم لہجے میں انشاءاللہ کہا۔




































