
ام حسن
سلام ہو تم پر اے اہل غزہ
سلام ہو مجاہدین پر جو ثابت قدم ہیں۔ ہمارے دل تمہارےساتھ ہیں لیکن ہم محصور ہیں،ہماری دعائیں تمہارے لیے ہیں۔اللہ تمہاری مدد کرے اور اللہ کا وعدہ ہے
کہ وہ اپنے بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ ان شاء اللہ تم ان صہیونیوں کو ارض فلسطین سے ضرور بے دخل کرو گے۔ تمہاری ثابت قدمی اور صبر مسجد اقصی ٰکو ضرور آزاد کروائے گا۔ان شاء اللہ
یہ وہ وقت ہے جس کےبارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاشارہ فرمایا تھا کہ ایک وقت میری امت پرآئےگا جب تمام دشمن قومیں اس پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی۔ جیسے دسترخوان پر بھوکے، تو صحابہ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گےتو آپ نے فرمایا نہیں لیکن تمہارے دلوں میں وہن پیدا ہو جائے گا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وہن کیا چیز ہے؟ تو آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔
آج پوری دنیا کے مسلمان اربوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے تھوڑے سے مسلمان مجاہدین کی مدد نہیں کر پا رہے۔اپنی بہنوں کو نہیں بچا پا رہے ۔ اپنے بچوں کو روتا، بلکتا زخمی ہوتا دیکھ رہی ہیں۔خون کی ندیاں بہتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ کیوں؟ موت کا خوف اور دنیا کی محبت ان کے دلوں میں رچ بس گئی ہے۔ مفادات نظر آتے ہیں۔ خدا کے علاوہ جن دنیاوی خداؤں کو اپنا کرتا دھرتا بنا رکھا ہے ،ان سے ڈر تے ہیں۔ یہ سوچ پیدا ہوگئی ہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارے پڑوس میں ہمارے بچے مر رہے ہیں ہم تو محفوظ ہیں نا۔ آج یہ سوچ مسلمان امت کی غزہ کے مسلمانوں کو بے یار و مددگار کیے ہوئے ہیں لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ آج وہ ہیں تو کل ہم ہوں گے کیونکہ دشمن کبھی دوست نہیں ہوتا۔
جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہوں تو دل کو سکون حاصل نہیں ہوتا ،ایک شرمندگی اوراحساس جرم میں مبتلاہوں کہ ہم اپنےمسلمان بہن بھائیوں کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے۔ اللہ بہت خون بہہ چکا ہے۔ بہت بے بسی ہے۔ بہت ظلم ہے ۔۔۔۔مدد کر دے ۔۔۔مدد کردے ۔۔میرے مالک مدد کردے۔آمین




































