
ام حسن
غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم کسی سےڈھکے چھپے نہیں،ایسےمیں اقوام متحدہ اور مسلم امہ کی خاموشی انتہائی قابل مذمت ہے۔
فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد آج امت مسلمہ پر فرض ہو گئی ہے لیکن امت مسلمہ ارض مقدس کی اہمیت کو سمجھے بغیر یہ فرض ادا نہیں کر سکتی۔ یہ وہی سر زمین ہے جس پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمانوں پر گئے اور جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت کروائی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
:کرنے کے کام
مسلمانوں میں آگاہی پیدا کرنا۔ مایوسی کوخاتم کرنا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔نئی نسل کوارض مقدس کی اہمیت سمجھانا اورذہنی طورپرجہاد کے لیے تیار کرنا۔اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ اور ان مسلمانوں کا بھی بائیکاٹ جو اسرائیلی مصنوعات رکھتے ہیں۔تمام اسلامی دنیا میں امریکاکے سفارت خانوں کا گھیراؤ کرنا۔عرب حکمران اگر خواب غفلت میں ہیں تو عرب نوجوانوں کو سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔مجاہدین اور غزہ کے لوگوں کو دعاؤں میں یاد رکھنا۔
ہمارا دعاؤں کا انداز بھی غلط ہے اوردعا بھی ہم صحیح طریقے سے نہیں مانگتے۔ ہم کہتےہیں کہ اےاللہ آپ ان لوگوں کی مدد فرما۔ اللہ توان کی مدد ہمارے ذریعے سے ہی کرے گا۔ ہمیں دعا مانگنی چاہیے کہ اے اللہ ہمیں ان کی مدد کے لیے تیار کر لے ہمارے دلوں سے دشمن کا رعب ختم فرما اور ہمیں ان کا قوت بازو بنا اور اب صرف دعاؤں کا وقت نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، بس ہم دعا کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے عملی طور پر کچھ کر دکھانے کا۔ اللہ آسمان سے فرشتے اتار کے ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اللہ ہمارے ذریعے سے ہی ان کی مدد کرے گا۔
اس وقت پوری امت یہ دعا مانگ رہی ہے کہ اللہ تو ان کی مدد کر دے ۔یہ تو ایسا ہےجیسے شاعر نےکہا کہ! ”یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔“کیا اب بھی ہم سوتے رہیں گے؟کیا اب بھی وقت نہیں آیا؟ کیا تب جاگیں گے جب پورا غزہ ختم ہو جائے گا؟۔




































