
ام حسن
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کان ھم بنیان مرصوص
ہم اللہ کے بے حد مشکور ہیں کہ اس نے ہمیں اس جنگ میں کامیابی عطا کی اورہمیں فتح مبین سےنوازا۔اس کے بعد ہم افواج پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے کمال مہارت، جرات، جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہو کر یہ جنگ لڑی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اس جنگ کے تانے بانے بنے تو پھر کامیابی کیوں نہیں ملے گی۔
ایک طرف اللہ کے نافرمان اور اسلحہ پر بھروسہ کرنےوالےاوردوسری طرف اللہ کےبندے جو اللہ پربھروسہ کرتےہیں۔ تعداد میں کم، اسلحے میں کم، لیکن اللہ پر کامل یقین اور بلند حوصلے نے اس جنگ میں کامیابی دی ۔ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے،کتنےہی تعداد میں کم گروہ نے بڑے گروہ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اس جنگ کا نام ہندوؤں نےآپریشن سندوررکھاجوکہ عورتوں سےمنسوب ہے جبکہ ہماری افواج نے کیا ہی خوبصورت نام ”آپریشن بنیان مرصوص“(آ ہنی دیوار) رکھا گویا کہ انہوں نے خود ہی عورتوں کے مقابلے میں مرد مجاہد کو للکاراتواللہ کے حکم سے نتیجہ فتح مبین کی صورت میں سامنے آیا۔ اس جنگ میں ایشیا کے ہتھیار بمقابلہ یورپ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی جوپوری دنیا نے دیکھا کہ یورپ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی فیل ہو گئی ،را فیل جہاز جو فرانس کا غروب تھا۔ اس نے منہ کی کھائی۔
رافیل وہ جہاز ہے جس کو آج تک کوئی گرانہیں سکا لیکن اللہ کےفضل سےہمارے شاہینوں نے پلٹ پلٹ کرکاری ضرب لگائی اوررافیل کو فیل کر دیا الحمدللہ۔ اس موقع پر مجھے یہ شعر یاد آ رہا ہے۔
پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ
دوسری جنگ عظیم کےبعد یہ پہلی فضائی جنگ تھی جو ایک گھنٹےکےطویل وقت تک جاری رہی۔ پوری دنیا محو حیرت ہےکہ پاکستانی جو معاشی طور پر انتہائی بدحال سیاسی اور قومی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہیں ،اس نے اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل کر لی؟ لیکن یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ اپنے ملک کی دفاع کے لیے پوری قوم ایک ہے اور انہوں نے یعنی یہود اور ہنود نے ایک ایسی قوم سےپنگا لیا ہے جو بے خوف ہو کر اپنے بندوقوں سے دشمن کے ڈرون کو گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کندھوں پر رکھ کر اس کے جنازے نکالتی ہے۔اس جنگ میں ہماری میڈیا کا بہت اہم کردار رہا۔ انہوں نے عوام میں بالکل سنسنی نہیں پھیلنے دی ،لہذا ہمیں ہر پلیٹ فارم پر فتح حاصل ہوئی۔ ہم نے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، بلند حوصلے، بے خوفی، اتحاد اور انتہائی مہارت سے اس جنگ میں فتح حاصل کی ہے۔اسی لیے کہتےہیں کہ فتح صرف دشمن کو ہرانےسےنہیں بلکہ اپنےکردار کو بلند کرنے سے ملتی ہےاور آ خر میں یہ کچھ اشعار۔۔۔
جب جب خطرہ ہو محسوس
بنیان مرصوص
ضد پہ آئے جب ناموس
بنیان مرصوص
ہم سب وردی میں ملبوس
بنیان مرصوص
خوف زدہ نہ ہم مایوس




































