
ام حسن
وہ تنہا مگر مطمئن چلتا رہا۔
کندھوں پر چڑیا کا پرانا گھر ڈالے گھومتا تھا،لوگوں کی عجیب نظروں،باتوں، ہنسی،طعنوں کوخاموش سےخوشی، خوشی سہتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں بلکہ محافظ ہے۔ لوگوں نے تو دل کے دروازے بند کر دیئے لیکن اس کےدل کا یہ احساس چڑیا بخوبی جانتی تھی۔ وہ گھومتی، چہچہاتی اور واپس اپنے محافظ کے پاس اپنے گھرآجاتی تھی۔چڑیا کی محبت کا یہ انداز اس کو ایک الگ سرور دیتا۔ شاید اسی کو محبت کہتےہیں،جہاں پناہ دینا بوجھ نہیں شرف بن جاتا ہے۔




































