
ام حسن
انسان کی زندگی اتار چڑھاؤ کا مجموعہ ہے۔زندگی میں بہت اچھے حالات کے ساتھ مشکل سے گزرنا، زندگی کا حسن ہے۔ لہذا ایسے وقت میں جب
انسان مشکل میں پھنس جائے، تو امید کا دامن ہاتھ سے نہ نکلنے دے کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ "ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
اس وقت عام طور پر معاشرے کے اندر یہ بات رائج ہے کہ ہر انسان کو وہی نظر آتا ہے جو کہ نظروں میں کھٹکتا ہے، جیسے بہت ہی خوبصورت جوڑا ہو لیکن اس جوڑے پر کہیں سے کوئی چھوٹا سا کٹ لگ گیا ہو یا کوئی نقص آگیا ہو تو اس نقص کی وجہ سے پورے جوڑے کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور اس کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔
ایسے ہی ہمارے اخلاق کے ساتھ ہے کہ کسی کی ایک سخت بات اس کے سارے پچھلے اچھےاعمال پر بھاری ہوجاتا ہےاور بری بات نمایاں ہو جاتی ہے۔ معاشرے کی یہ عادت بن چکی ہے کہ برائیاں جلدی نمایا ں کر دی جاتی ہیں۔ ایک استاد نے اپنے شاگردوں کو ایک سادہ پیپر دیا جس میں بیچ میں صرف ایک ڈاٹ تھا اور استاد نے کہا کہ اس پہ لکھو سب بچوں نے اس ڈاٹ کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،جب استاد نے سب بچوں کے پیپر دیکھے تو استاد نے ان کو یہ بات سمجھائی کہ اتنا سارا صفحہ خالی تھا ،سفید تھا مگر کسی نے اس پر نہیں لکھا اور صرف ایک چھوٹا سا ڈاٹ اس کے اوپر سب بچوں نے لکھا تو استاد نے اسی معاشرتی سوچ کے تحت اپنے شاگردوں کو بڑے خوبصورت انداز سے واضح کیا کہ مشکل میں آسانی اور برائی میں اچھائی تلاش کرنا اچھے معاشرے کا حسن ہے۔
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اچھی چیز کے بارے میں جو کہ بہت زیادہ ہے، وہ نہیں بیان کریں گے تو شکر گزاری نہیں آئے گی ،نہ بندوں کے ساتھ شکر گزاری آئے گی اور نہ ہی اللہ کی ذات کے ساتھ شکر گزاری آئے گی۔ شکر گزاری پیدا ہی اس بات سے ہوتی ہے کہ جو ہے، جتنا ہے، اس پر احسان مند ہونا۔اللہ تعالی فرماتے ہیں
وان تعدوا نعمت الله لا تحصوها
اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورا گن بھی نہیں سکتے۔
اور پھر نعمتوں پر شکر ادا کرنا یہ نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں لان شكرتم لازيدنكم
اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تمہیں ضرور مزید نعمتوں سے نواز دوں گا۔اللہ تعالی ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنائیں امین۔




































