
نیرنگِ خیال/ عریشہ اقبال
دور حاضر میں بدلتی قدروں کے ساتھ ہماری زمہ داریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں مگرسوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیا میں اور آپ اس امر پر سوچنے کو رحمت
سمجھتے ہیں یا پھر یہ سوچ یا خیال میری اور آپ کی زندگی میں زحمت کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اگر تو یہ رحمت کی حیثیت رکھتا ہے تو مبارک ہو آپ کو دنیا میں موجود ہونے کے صحیح حق سے آگہی حاصل ہورہی ہے اور اگر اب تک آپ کو یہ ذمہ داری اور اس کا خیال زحمت معلوم ہوتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ آپ مبارکباد کے نہیں بلکہ تعزیت کے مستحق ٹھہرے ہیں کیونکہ تعزیت ان ہی کے سامنے پیش کی جاتی ہے جن کا کوئی نقصان ہوا ہو یا پھر انہوں نے کچھ کھو دیا ہو اور مبارکباد کے مستحق وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جنہوں نے کامیابی حاصل کی ہو۔ لہٰذا انسانی زندگی کی تعمیر کے لیے آپ کا اور میرا کردار جس دائرہ کار میں ادا ہورہا ہے،اس دائرہ کار سے منسلک ہر معاملے کو اپنی نگاہ میں رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ کہاں کس مقام پر ہمیں زحمت کی جگہ سے رحمت کو تبدیل کرنا ہے ۔ کہاں ہمیں شر سے دوری اور خیر سے قربت اختیار کرنی ہے اور کہاں ہمیں تقلید سے اطاعت کی جانب سفر کرنا ہے ۔
آپ جہاں جس دائرے میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہوں وہ آپ کے لیے کسی کارزارِ حیات سے کم نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ زندگی اور اس کے دوران طے کیے جانے والے مراحل آپ کو اس معرکہ آرائی کے لیے تیار کرنے والے ہونے چاہیے جس معرکے میں حق کی جیت اور باطل کی شکست یقینی ہوجایا کرتی ہے
دل سے کیے جانے فیصلے ہوں یا پھر ذہانت کا امتحان آپ کو ہمیشہ یہ خیال رہنا چاہیے کہ آپ ایک کھلی جنگ کا اعلان سن چکے ہیں اور اس اعلان کی تصدیق آپ کی زبان سے کیا جانے والا وہ اقرار ہے جس کو آپ کلمہ شہادت کہتے ہیں۔ آپ نے یہ اقرار کرنے کے نتیجے میں خود کو اس کھلی جنگ کی حمایت کے لیے پیش کردیا ہے مگر ہاں اس میدان جنگ میں فتح اسی کا مقدر ہے جس شخص کی زندگی کا ہر حوالہ اور ہر ضابطہ اس شعور کی پختگی تک پہنچ چکا ہو جس مقام پر ہر فکر ، ہر خوشی ، ہر غم حقیقت سے اپنا رشتہ جوڑ لے اور یہ رشتہ جتنا مضبوط ہوگا ۔
اتنا ہی آپ کا قلب منور
آپ کا ذہن ترو تازہ
آپ کا چہرہ شاداب
اور آپ کا وجود خیر کا سر چشمہ بنتا چلا جائے گا۔ کوشش کیجیے نگاہوں کا مرکز اور زندگی کا مقصد آپس میں جڑا رہے کیونکہ اگر یہ دو راہیں جدا ہوئیں تو قدریں بدلتی رہیں گی۔
رشتے بکھرتے رہیں گے
گھر اجڑتے رہیں گے
اور ضمیر کو وہ قفل چڑھے گا کہ پھر اس قفل کو ہٹانا سخت نا ممکن ہوگا ،لہٰذا بدلتی ہوئی قدروں میں اپنے کردار کا جائزہ ضرور لیجیے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا آپ تعزیت کے مستحق ہیں یا پھر مبارکباد کے حقدار ہیں فیصلہ آپ کا ہے ۔




































