
صبا احمد
سوشل میڈیا پرباربارغزہ کی ایک بچی کی ریل آتی ہے کہ بائیکاٹ جاری رکھیں ۔یہود نےجنگ بندی کی ہے مگر آپ ہماراساتھ نہ چھوڑیں ۔ایک خبر کے
مطابق لیز، کوکا کولا، میڈیکڈونلڈ ،کے ایف سی اوردوسری دیگرمصنوعات کے بائیکاٹ نے اسرائیل کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے ۔
پاکستان میں کا کولا چیمپئن ٹرافی کو اسپانسر کو کر رہا ہے ۔سعودی عرب قطر اور دوسرے مشرق وسطی کے ممالک کا فلسطینیوں کو غزہ سے دستبردار کرنے کیخلاف پہلے اور پاکستان نے سب سے آخر میں بیان دیا ۔اپنے گھروں کے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے بھوکے پیاسےلوگ غزہ چھوڑنے کو تیار نہیں ۔
ملبے پر بیٹھی خاتون ابھی بھی کیمپ میں رہنے کو تیار ہے۔ملبےمیں سونے کو گدا تلاش کر رہی ہے ۔اولاد شہید ہوگئی ۔بچے یتیم ہو گئے ،تن تنہا ملبے کے ڈھیروں پر رہ رہے ہیں ۔وہ بچے جنہیں بولنا بھی نہیں آتا ،چلنے کے قابل بھی ہیں ۔چھوٹے بہن بھائیوں کو پال رہے ہیں ۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جنگ بندی کے بعد بیان کہ مصر اردن سعودی عرب کے پاس اتنی زمین ہے، وہ انہیں وہاں آباد کرلیں غزہ کی سرزمین چھوڑ دیں ۔اوروہ وہاں ہم ریزورٹ بنائیں گے ۔ تو قطر اور سعودی عرب نےکہا کے شمالی فلسطین کے زیتون کے باغوں کی سر زمین انہیں دیں جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہے فلسطین اور اقصیٰ ان کے ہیں ۔
اس پر ایک بچے نے اپنی ریل میں کہا کہ اپنےدورکا فرعون جوخود کا خداکہتا تھا،وہ پانی میں ڈوب کرمرگیا ۔اسے تیرنا نہیں آتا تھا تو تمہارے لیے اللہ کا حساب شدید نہیں ہوگا ؟ ۔
امریکا کو اپنی چارریاستوں میں سمندری طوفان ہوا پانی آگ وبجلی اور برف باری سےسبق لینا چاہیےکہ اللہ تعالی کی نعمتیں جودکائنات میں ہے جن وانس ہوا نباتات وحیوانات پانی پہاڑ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالی کا لشکر ہیں ۔ یہ اگرانسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو نافرمان و کفار کی ہڈ دھرمی پر یہ لشکر انہیں نیست ونابود بھی کرتا ہے جیسے سورۃ الفیل میں ابرہ کا ذکر ہے کہ خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالی نےابابیلوںکا لشکر بھیجا ۔ انہوں نےلشکر پر پکی ہوئی مٹی کی کنکریاں پھینکیں وہ جہنم کےپتھر تھے ۔یہ فلسطین کی جنگ بندی یہودی اپنی کسی بڑی جنگ کی تیاری ظاہر کر رہا ہے۔غزہ مسلمانوں کے خلاف تو اس کی غلطی ہے اوپر بیٹھا قادر مطلق اس سے بڑی چال چلنے والا ہے ۔
بس ہمیں وقت کے فرعون کو ہرانے کےلیےان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہے،اس کی معشیت کو نقصان اورجنگ خیبر کی طرح ان کےدرخت کاٹنے ہیں اور صحابہ کے پوچھنے پر کہ قبلہ اول نہیں جاسکتے تو کیا کریں۔تو نبی کریم صہ کا جواب تھا کہ دیوں کے لیے تیل بھیج دیں ۔
ابھی بھی مسلم ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ نہیں کیا کچھ ہماری لوکل انڈسریز کی پیداوار کم ہے، ابھی صنعتکار اسرائیلی مصنوعات دنیاوی منافع کے لیے بیچ رہے ہیں ۔آخرت کا فائدہ بھول رہے ہیں۔
۔اگر بچے بھی اسرائیلی بسکٹ چاکلیٹ اور چپس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں تو ہم باشعور لوگ کیوں پہل نہیں کرسکتے ۔
ابھی بھی غزہ کے لوگوںکے لیے رفح باڈر سے خوراک کے چند ٹرک گزرنے دیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج جو ان کی خوراک و پیاس کی ضرورت کو پورا نہیں کر رہی تو ہمارے پاس واحد ہتھیار اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ہے۔ تو عہد کریں کہ ہم اسرائیلی پراڈکٹ کا ہرطرح سے بائیکاٹ کریں گے اور اس کے لیے لوگوں میں شعور بیدار کریں ۔




































