
بنت حوا
پچھلے دنوں سوات میں ایک 15 سالہ بچے کا قتل ہوا ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ایسے بچے جو مدارس میں جاہل اساتذہ کےظلم کا شکار بن
کر اس دار فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور والدین کے دل پر ایک درد بھرا زخم جو کبھی نہیں بھرتا چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے۔دین اسلام تو انسانیت کا درس دیتا ہے ،انسان سے محبت شفقت اور ہمدردی ہمارے پیارے نبیﷺ کی نمایاں سنت ہے جو ہمارے نام نہاد اسلامی ملک میں کہیں کھو گئی ہے۔ اس کو قائم کرنے رواج دینے کی پھر سے ضرورت ہے ورنہ والدین اس عظیم نعمت جو حافظ قران علماء کرام کی صورت ملتی ہے اور اپنے بچوں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں گے ،جتنی ضرورت حافظ قرآن کی اس ملک کو ہے (جو کہ فرض کفایہ ہے) اس سے کہیں زیادہ انسان دوست اساتذہ کی ہے اور دین کا سچا علم رکھنے والوں کی ہے ۔اساتذہ کا یہ بھیانک چہرہ جو آئے دن پورے ملک میں سب کو دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ہمارے معاشرے کی ایسی بھیانک تصویر ہے جس کا تصور کرتے ہوئے بھی والدین گھبراتے ہیں ، مدرسوں میں بچوں کو بھیجنا تو دور کی بات ہےاور سب سے اہم بات کہ یہ ننھے پھول جو بن کھلے ہی مرجھا گئے، یہ ترقی کی بلندیوں کو چھوکر معاشرے کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتے تھے اگر ان شیطان صفت اساتذہ سے محفوظ ہوتے۔
ملک کے حکمرانوں با اثر ادارو، بچوں پر ان کے والدین پررحم کرو۔ مہربانی فرما کر پورے پاکستان کی اس طرف توجہ دلائیں اور جس سطح پر بھی کام ہو سکتا ہےاس پر فوری عمل کریں۔ کوئی معیار مقرر کریں اساتذہ کےلیے کہ وہ بچوں کو نہ ماریں ،نہ ظلم کریں ۔۔ یہ مدارس کے لیے پہلی شرط ہونی چاہیے ۔ ورنہ آنے والے سالوں میں مدارس پر تالے نظر آنے کے امکانات بہت واضح ہیں۔




































