
ایمان زاہد بھٹی
ہوا کے تیز جھونکے اپنی موجودگی کا پتہ دے رہے تھے اور درخت کے پتوں
سے سرسراہٹ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ایک شام ڈھلے سورج غروب ہونے کو تھا۔ صحرا کے اس کنارے پر تنہا کھڑا ایک بوڑھا درخت اپنے لمبے سائے کو ریت پر پھیلائے ہوئے تھا۔ یہی سایہ اس کے وجود کا واحد ثبوت تھا۔
دور تک پھیلی ہوئی وسیع اور ریتیلی زمین پر کہیں کوئی زندگی کے آثار نظر نہیں آتے تھے مگر بس وہ تنہا درخت تھا جس نے اپنی پوری زندگی اس صحرا میں گزار دی تھی۔ ہوا چلتی تو اس کے پتوں کی سرسراہٹ سنائی دیتی، یوں لگتا جیسے درخت کوئی داستان سنا رہا ہو، جس داستان میں مرکزی کردار اس احساس کا ہے جو دوسروں کو راحت دیتا ہے مگر اپنی تکالیف اور امتحانوں میں خاموشی اپنائے رکھتا ہے۔
ایک روز اسی وسیع زمین پر درخت کے قریب مسافر اپنے قدم بڑھاتا آ رہا تھا۔ تھکا ہوا وجود، خشک حلق کے ساتھ، اس مسافر کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے درخت کے سائے میں پناہ لینا چاہی۔ جیسے ہی وہ درخت کے نیچے پہنچا، ٹھنڈی ریت پر لیٹ گیا اور سکون نے اس کو آنکھیں موند لینے پر مجبور کر دیا۔ درخت نے اپنی ٹہنیاں مزید نیچے جھکا دیں تاکہ سایہ اور گہرا ہو جائے۔ مسافر نے کچھ دیر بعد جب آنکھیں کھولیں تو لمحے بھر کے لیے درخت کو دیکھا، پھر اپنے اوپر پھیلے سائے کو دیکھا۔
وہ درخت سے کہنے لگا:"تمہارا سایہ تو بہت ٹھنڈا ہے۔"
درخت جواباً خاموش رہا، گویا اس مسافر کی بات غور سے سن رہا ہو۔ کوئی آواز نہ آئی، بس ہوا میں پتوں کی سرسراہٹ گردش کرنے لگی۔
مسافر نے اپنا سرہانے رکھا ہوا پانی کا مشکیزہ نکالا اور درخت کی جڑوں میں پانی کے چند قطرے ڈال دیے، اور پھر مخاطب ہوا:
اس تپتے صحرا میں تم سب کو سایہ دیتے ہو، سب کی پرواہ کرتے ہو مگر کوئی تمہاری پیاس کا خیال نہیں کرتا۔
وہ کہنے لگا:"شاید یہ تمہاری پیاس بجھا دے۔"
چند دن وہ مسافر وہیں قیام کیے رکھا اور روزانہ درخت کے سائے میں بیٹھا کرتا، کبھی سوچوں میں گم ہو جاتا، کبھی دور افق کو دیکھتا رہتا۔ وہ مختلف کیفیات سے گزرتا مگر درخت اپنا سایہ اس پر سایہ فگن رکھتا، جیسے اس کی کیفیات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ کسی طرح اس کو سکون ملتا رہے۔ کچھ دن گزرے کہ مسافر کو خیال گزرا کہ اسے اب چلنا چاہیے۔
اس نے درخت سے کہا:
اے دوست!
اب میرے جانے کا وقت ہے۔
"میں چلا جاؤں گا، تمہارے سائے نے میری تھکن کو دور کر دیا ہے۔"
درخت کی ٹہنیاں ہلنے لگیں، جیسے جانے کی اجازت دے رہا ہو۔ مسافر اپنے راستے چل پڑا، مگر پھر سے وہ درخت دشتِ تنہائی میں پیچھے رہ گیا۔
موسم بدلے، آندھیاں آئیں، ریت کے طوفان اٹھے، مگر ان سختیوں کے مقابل درخت اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ اس کا سایہ دن بھر ریت پر پھیلا رہتا، ہر ایک کا درد بانٹنے اور اسے سکون پہنچانے کے لیے دستیاب۔ سال گزر جانے کے بعد وہی مسافر پھر لوٹ کر آیا تو وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ درخت بھی بوڑھا ہو چکا تھا، اس کی ٹہنیاں کم ہو گئی تھیں۔
اس نے درخت کو مخاطب کرکے کہا:
"میں واپس آ گیا ہوں، اے دوست۔"
وہ سائے میں بیٹھا، مگر وہ سایہ اب پہلے جتنا گہرا نہیں رہا تھا۔ پتے کم ہو گئے تھے اور ٹہنیاں کمزور۔
اے درخت...
"تمہارا سایہ تو اب وہ گہرائی نہیں دیتا۔"
درخت پھر خاموش رہا، مگر اس خاموشی میں اس تنہائی کی داستان موجود تھی جس سے احساس کی حدت محسوس کی جا سکتی ہے۔
بوڑھا مسافر اسی سائے میں بیٹھا رہا۔ شام ہوئی تو سایہ لمبا ہونے لگا۔ ریت پر پھیلا وہ سایہ اب بھی ٹھنڈا تھا مگر پہلے جیسا گہرا نہیں۔
رات ہوئی تو مسافر نے درخت کے تنے سے لگ کر آنکھیں موند لیں۔ درخت نے اپنی آخری ٹہنیاں بھی اس مسافر کے سکون کی خاطر جھکا دیں۔
صبح ہوئی تو درخت کا سایہ ریت پر نہیں تھا۔ مسافر بھی اب نہیں تھا۔ بس ریت پر دو بے جان وجود تھے جنہوں نے خود کو ایک دوسرے کے حوالے کر دیا تھا۔
دور سے دیکھنے والے ہر شخص کو لگتا، جیسے درخت نے اپنا آخری سایہ مسافر کو چادر کی طرح اوڑھا دیا ہو تاکہ وہ پناہ میں آ سکے۔
اور پھر اگلے سال جب بارش ہوئی تو وہاں ایک ننھا سا پودا اگ آیا، جس کا سایہ ریت پر ایک چھوٹا سا دائرہ بناتا، جو دن بھر بڑا ہوتا جاتا اور شام کو لمبا۔
سایہ مرتا نہیں ہے، جیسے احساس اگر واقعی سچا اور خالص ہو تو وہ بیچ راہ میں چھوڑتا نہیں ہے، بس ایک شکل سے دوسری شکل میں ڈھل جاتا ہے۔




































