
نئی دہلی:بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نےافغان امن عمل سے بھارت کےمکمل طور پر باہر ہونےکو پاکستان کی سفارتی
کامیابی تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کو بھارت کے لئے پریشان کن قرار دےدیا۔
بھارتی اخبار نے تسلیم کیا کہ افغان امن عمل کے نتیجے میں پاکستان ، امریکا اور روس اور چین کے ساتھ مل کر طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ دوسری جانب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور گہرے مفادات وابستہ ہونے کے باوجود بھارت کے وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا نے یہ بھی لکھا ہے کہ پورے افغان امن عمل میں ہندوستان دکھائی دیتا ہے نہ ہی اس کے تحفظات کا کوئی نشان ملتا ہے، تازہ صورت حال سے واضح ہے کہ پاکستان خطے میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور بھارت کو افغانستان کے مستقبل سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے۔
اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اس خطے کی جیوپولیٹکس میں سینٹر اسٹیج کی حیثیت اختیارکرچکا ہےاوراس حوالےسے بھارتی تشویش پر کسی بھی سطح پر سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔بھارتی سرکار نے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مذاکراتی عمل زلمے خلیل زاد اور روسی حکام کے سامنے بھی اپنا نکتہ نظر رکھا ، تاہم دال گلتی دکھائی نہ دی۔
امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی نئی دہلی آمد کے موقع پر بھی بھارت نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بھارت کا موقف ہے کہ گزشتہ 18 برس کے دوران بھارت نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو افغان امن معاہدے کے بعد خطرے کی زد میں ہوگی۔
ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان صورتحال سے مکمل مطمئن اور پوری طرح خوش دکھائی دے رہا ہے، امریکا اور اس کے اتحادی سعودی عرب، امارات اور قطر پاکستان کی بھرپور امداد کررہے ہیں، آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے امدادی پیکج جاری کردیا ہے۔چین اور پاکستان بھی ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے ہیں مگر بھارت منظر سے غائب ہے۔ پاکستان نے اپنے آپ کو خطے کے لئے اہم اور ناگزیر ملک ثابت کیا ہے۔
۔بھارتی اخبار نے لکھا کہ امریکی صدر ذونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف متعدد ٹویٹس کے باوجود وہ واشنگٹن میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے استقبال کے لئے تیار ہیں۔ یہ تمام صورتحال بھارت کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گواہی دیتی ہے۔





































