
نیودہلی (ویب ڈیسک ) بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے ہرزہ سرائی کی ہے کہ پارلیمان
نے حکم دیا تو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے کارروائی کریں گے۔
انڈیا اور چین کے درمیان کے درمیان جد ایک ہاٹ لائن قائم ہو گی۔تمام یونٹس میں ہم آہنگی رکھی جائے گی اور سب کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔انڈیا کی بری فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نرونے سنیچر کو دارالحکومت دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین پارلیمان پورے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتی ہے اور جب انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس لینے کے لیے حکم ملے گا تو فوج اس ضمن میں کارروائی کرے گی۔
دہلی میں منعقدہ اپنی پہلی میڈیا کانفرنس میں انھوں نے بری فوج کے سربراہ کے طور پر اپنے آئندہ کے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اپنی آپریشنل ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک فوج کا سوال ہے ہمارے لیے شارٹ ٹرم خطرہ دراندازی ہے، جبکہ طویل مدتی خطرہ روایتی جنگ ہے اور ہم اسی کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
انڈین میڈیا کے مطابق جنرل مکند نرونے نے کہا کہ آنے والے دنوں میں فوج کی توجہ تعداد کے بجائے کوالٹی پر ہو گی۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعلق انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکا سوال ہے تو اس کے بارے میں پارلیمانی قرارداد ہے کہ پانچ اگست سے قبل والا پورا جموں اور کشمیر ہمارا حصہ ہے۔ یہ پارلیمانی قرارداد ہے اور اگر پارلیمان یہ چاہتا ہے کہ وہ علاقہ بھی کبھی ہمارا ہو اور اس قسم کا اگر کوئی حکم ہمیں ملتا ہے تو اس پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔





































