
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) پاکستان کی وزارت اطلاعات ونشریات نےمتعدد شکایات موصول ہونے پر ملک بھر کے سنیما
گھروں میں عالمی ایوارڈ یافتہ فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے۔
ماریہ بی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں ریلیزپر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صائم صادق کی فلم خواجہ سراو¿ں کے حقوق کیلئے نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کیلئے ہے۔
اس سے قبل فلم کا ٹریلر سامنے آ نے کے بعد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی فلم پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینےکی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
فلم کی کہانی ایک نوجوان اور ٹرانس جینڈر کے گرد گھومتی ہے جوکہ ڈانس کلب میں ملازمت کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ فلم کو کانز فلم فیسٹیول میں ”کانز کوئیر پام“ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔





































