
ملتان(محمد طلحہ صدیقی)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں نے اب تک نیب کے قانون کو
نہیں پڑھا لیکن اس پر مسلسل تنقید کرتے ہیں۔
نیب بیورو ملتان میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے جسسٹس(ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب اور معیشت تو ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں لیکن نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اب لوگ ڈاکا زنی کرنے سے قبل یہ ضرور سوچتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اس کارنامے کے بارے میں نیب کو پتہ چل جائے،
انہوں نے کہا کہ اس ڈر کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے اندر کوئی بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، اقتدار میں آکر لوٹ مار کرنے والوں کو نیب کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور کوئی بھی اقتدار میں آئے نیب کو کوئی مسئلہ نہیں، کہا جاتا ہے کہ نیب میگا کرپشن نہیں دیکھتا، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے نیب نے کونسا میگا کرپشن سکینڈل نہیں دیکھا؟ جس وزیراعظم یا وزیراعلیٰ یا وزیر کے خلاف اسکینڈل سامنے آیا، وہ اپنے خلاف کیس بھگت رہا ہے۔
جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا قانون کالا قانون نہیں،ان لوگوں کیلئے یہ قانون کالا ضرور ہے جو اس ملک کو لوٹنے میں لگے ہیں، پلی بارگین پر سوالیہ نشان لگائے جاتے ہیں اور اسے غلط قرار دیا جاتا ہے لیکن اگر کسی کو اپنی لوٹی ہوئی رقم کا 90 فیصد واپس مل جائے تو تو پھر یہ غلط کیسے ہے؟ تاہم اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔،ملک اس وقت 95 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو ملک میں 95 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟ لیکن پاناما جیسی چیزیں اور دبئی میں ٹاورز ضرور نظر آئے ہوں گے، اگر یہ 95 ارب روپے پاکستان میں خرچ ہوتے تو ہم اس طرح دنیا میں کشکول لے کر دربدر نہ پھر رہے ہوتے نیب کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، کوئی بھی اقتدار میں آئے، اگر وہ لوٹ مار کی جانب جائے گا تو اسے نیب کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔





































