
اسلام آباد(ویب ڈیسک /فوٹو :فائل )سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیرون ملک علاج کیلئے دائرکی گئی
نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نظرثانی درخواست کی سماعت کی ،بنچ میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحیٰی آفریدی بھی شامل تھے۔
سابق وزیراعظم کو طبی بنیاد پر چھ ہفتے کیلئے عبوری ضمانت دی گئی تھی عبوری ضمانت کی مدت سات مئی بروز منگل ختم ہورہی ہے۔
جیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی ڈاکٹرنے یہ نہیں کہا کہ نوازشریف کا علاج لندن کے علاوہ کہیں ممکن نہیں ،غیر ملکی ڈاکٹرزن صرف علاج کی پیش کش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں علاج کیلئے بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں ،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سزا کا معطل ہونا یا ضمانت کاخارج ہونا کوئی انہونی چیز نہیں ہے،ہر چیز کو سیاسی رنگ میں دیکھ کر عدالت کو بدنا م کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا کہ ضمانت کی مدت قابل توسیع ہے،ضرورت پڑنے پر ضمانت میں توسیع کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔





































