
کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی میں ہر
بڑے سانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سیاسی نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے، جبکہ اصل مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جسے عوام منتخب کریں، وہی شہر کا میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کے سانحے کے بعد شہر کے عوام میں شدید بے بسی اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے گل پلازہ واقعے پر فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز کے پاس نہ مناسب حفاظتی لباس تھا، نہ ماسک اور نہ ہی جدید کٹس موجود تھیں۔ ان کے مطابق بارش ہو یا آگ کا کوئی واقعہ، بروقت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے گرین لائن اور ریڈ لائن منصوبوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ غیر اہل اور کرپٹ افراد شہر کے نظام پر قابض ہیںجس کی وجہ سے بنیادی شہری سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ نہ وفاقی کنٹرول اور نہ ہی صوبائی کنٹرول کراچی کے مسائل کا حل ہے بلکہ شہر کے مسائل کا واحد اور دیرپا حل ایک بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے، جو عوام کے منتخب نمائندوں کے زیر انتظام ہو۔





































