
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہ صرف براہِ راست بلکہ غیر رسمی اور بالواسطہ
رابطوں کے تمام ذرائع بھی مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں، پارٹی کے اندر اس صورتحال کو غیر معمولی سیاسی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قیادت آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے وہ ارکان بھی اب کسی قسم کے رابطے میں نہیں رہے جو ماضی میں پس پردہ یا غیر رسمی سطح پر پارٹی سے بات چیت کرتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعطل اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ بتدریج اس وقت شدت اختیار کرتا گیا جب پارٹی کی احتجاجی سیاست میں تیزی آئی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق رابطوں کے خاتمے کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی مسلسل احتجاجی سرگرمیاں اور ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ عوامی بیانیہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ سیاست نے ممکنہ مذاکرات کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں،نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ احتجاجی سیاست اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت سڑکوں پر احتجاج بھی کرے، سخت زبان بھی استعمال کرے اور ساتھ ہی مذاکرات کی امید بھی رکھے تو یہ عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت اب بڑی حد تک اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے باعث فی الحال کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش موجود نہیں۔ اسی تناظر میں پارٹی کے اندر یہ بے چینی پائی جاتی ہے کہ آیا 8 فروری کو ہونے والا احتجاج کوئی مختلف یا غیر متوقع نتیجہ دے سکے گا یا نہیں۔
اسی پس منظر میں پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ کارکنان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے، جبکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر مرکزی احتجاج سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم پارٹی کے اندر خود توقعات محدود دکھائی دیتی ہیں،پی ٹی آئی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ کسی مؤثر احتجاجی سرگرمی کا دائرہ زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ موجودہ سیاسی اور انتظامی حالات میں پنجاب میں متحرک اور منظم احتجاج کے امکانات نہایت کم قرار دیے جا رہے ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر ذریعے کے مطابق قیادت خود بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ کسی بڑی پیش رفت یا انقلابی نتیجے کی امید کم ہے۔ ان کے بقول 8 فروری کے احتجاج کو فیصلہ کن مرحلے کے بجائے محض سیاسی موجودگی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد ممکنہ طور پر مذاکرات کی راہ اپنانے پر زور دے سکتا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ بات چیت کے لیے واضح شرائط ناگزیر ہوں گی۔
ماضی میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ختم کیے بغیر کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی نظام کو چلنے دینا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے،ایک ذریعے نے بتایا کہ کسی ایسی سیاسی تحریک کی اجازت نہیں دی جائے گی جو موجودہ سیٹ اپ کو خطرے میں ڈالے یا معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔ ان کے مطابق ملکی معاشی حالات نے سیاسی کشیدگی کے لیے گنجائش انتہائی محدود کر دی ہے۔
سابقہ رابطوں سے باخبر ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر کوئی ایسی سرگرمی قابلِ قبول نہیں ہوگی جو معاشی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ ان حالات کے پیش نظر 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کی آئندہ سیاسی سمت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پارٹی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ تنظیمی طاقت، عوامی متحرک کیے بغیر اور مذاکرات کے فقدان میں طویل محاذ آرائی کی سیاست آخر کب تک قابلِ عمل رہ سکتی ہے۔





































