
کراچی (رپورٹ :محمد عارف )نالج ان گرامر اسکول میں آرمی پبلک اسکول کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کرنے کے
لئے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اسکول کے اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
اس موقع پر اسکول کے پرنسپل محمد قاسم چرکھا نے اپنے خطاب مں کہا کہ ہم 16دسمبر کا دن یاد کرکے پہلے خون کے آنسو رویا کرتے تھے کیونکہ اسی روز 1971ءمیں تاریخ اِسلام کے تیسرے بڑے المیے سے گزرنا پڑ ا تھا۔ اس روز پاکستان کے تقریباً 90 ہزار سپاہیوں نے بھارتی کمانڈ ر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کےسامنے ہتھیار ڈال کر سقوط مشرقی پاکستان کےعظیم سانحے پر مہرتصدیق ثبت کردی تھی۔

محمد قاسم چرکھا نے کہا کہ 2014میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں خدا کے دشمنوں نے وحشت و بربریت کی ایک ایسی داستان لکھی جس نے نہ صرف سینکڑوں ،گھرانوں کو براہ راست اشکبار کیا بلکہ پوری قوم کو بھی رنج والم کی تصویر بنا دیا۔ انسانیت کے خلاف اس ہولناک جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے نام اسلامی ضرور تھے لیکن بندوقیں تھا متے وقت انہوں نے شیطان کو اپنا والی بنالیا تھا۔ یاپھر حقیقی مجرم وہ شیاطین تھے جنہوں نےانہیں وہ بندوقیں تھمائی تھیں اور ایک ابلیسی مشن ان کے سپرد کیا تھا۔ ان میں سے کچھ دہشت گرد تختہ دار پر لٹکائے جا چکے ہیں، لیکن قوم کا انتقام تبھی مکمل ہوگا جب خدا کا آخری دشمن اور باغی بھی کیفرکردار کو پہنچ چکا ہوگا۔
رحمت اللعالمین کے دین میں یہ بھیڑیئے کس نے داخل کئے ہیں ؟ کون سے طاغوتی ذہن ہیں جو اسلام پر وار کررہے ہیں ؟
انہوں نے کہا کہ یہ قوم شہادتیں دینے سے گھبرانے والی نہیں لیکن ہمارے لئے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے دین پر بندوقیں تان رکھی ہیں یہ لوگ اسلام کے روایتی دشمنوں کا ہر اول دستہ بن چکے ہیں۔




































