
ٹنڈوآدم (رپورٹ: سلمان غوری )گسٹا ضلع سانگھڑ کیجانب سے مطالبات کی منظوری کیلئے گورنمنٹ ہائی اسکول سانگھڑ سے پریس کلب سانگھڑ تک ضلعی صدر گسٹا
رستم خان نظامانی، ضلعی جنرل سیکریٹری غلام قادر کھوسو، صوبائی رہنما اقبال پنھور،دلدار غوری، فضل اللہ عمرانی، اقبال عمرانی کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی۔ریلی میں اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اساتذہ نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔
پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئےرستم خان نظامانی، اقبال پنھور ،دلدار غوری، فضل اللہ عمرانی، غلام قادر کھوسو اور اقبال عمرانی کہا کہ ایچ ایس ٹی اور اس کے ساتھ اساتذہ سے کئے گئے معاہدے کے تحت ٹائم اسکیل کیا جائے، سندھ یونیورسٹی، آئی. بی. اے، اقراء یونیورسٹی اور این ٹی ایس پاس استادوں کو ریگولر، 2012 میں بھرتی ہونے والے اسساتذہ کو تنخواہیں اور دوسرے محکموں کے افسران کو محکمہ تعلیم میں لانے والے منیجمنٹ کیڈر کی وجہ پائی جانیوالی بے چینی کو ختم کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ این جی اوز کے ذریعے تعلیم میں بہتری نہیں آئے گی جتنے فنڈز این جی اوز کو جاری کئے جارہے ہیں اتنی رقم تعلقہ، ضلع اور ڈویژن میں دیئے جائیں تاکہ سرکاری اسکولوں کے معاملات بہتر ہوسکیں.
انہوں نے کہا کہ جن حکمرانوں نے اسساتذہ کو بلاجواز تنگ کیا گیا جس سے آج انکا نام ونشان مٹ گیا۔وہ گمنامی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو تنگ کرنے اور انہیں ذہنی ٹارچرکرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
سندھ حکومت استاد دشمن پالیسی ترک کرےاور فوری طور منیجمنٹ کیڈر کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے تو 25مارچ سے ہونیوالےمیڑک کے امتحانات کا بائیکاٹ کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ 20 مارچ کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا.اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا.




































