
زین صدیقی
قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں حکومت پاکستان کی جانب سے کیے گئےاہم فیصلوں کو قوم نے سراہا
ہے،مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں بھارتی اقدام کیخلا ف احتجاج کیاجا رہا ہے،اجلا س میں مسلح افواج کوتیاررہنےکاحکم دیا گیا،14اگست کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی جبکہ 15اگست کو یوم سیاہ کےطورپرمنانےکا فیصلہ ،بھارت سےدوطرفہ تجارت ختم کرنےجبکہ سفارتی تعلقات محدودکرنےکابھی اعلان کیا گیاہے۔
مودی نے سیاہ تاریخ رقم کرتےہوئے پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا،جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی اور لداخ بھی بھارتی یونین کا حصہ ہوگا۔مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو پاکستان نے مسترد کردیا ہے۔پاک فوج نے بھی اسے یکسر مسترد کیا ہے ۔پاکستان کی تمام اپوزیشن اور حکومت بھی اس معاملے پر یک زبان ہوگئی اور مودی حکومت کے بھونڈے، غیرقانونی وغیر آئینی اقدام کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اسے کو مسترد کردیا ہے۔
مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ اپنے ملک کے آئین، سپریم کورٹ، جموں و کشمیر کی عدالت عالیہ کے فیصلوں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی 17 قراردادوں اور شملہ معاہدے کیخلاف کیا ہے،بھارت کے اقدام کو دنیا بھر میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہےاور اس کیخلاف نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اوردنیا کے دیگر ملکوں میں احتجا کیا جارہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ آج کی نہیں بہت پرانی ہے ۔27اکتوبر1947کو بھارتی افواج قابض ہوئی تھیں ،بھارت مسلسل ہٹ دھرمی سے مقبوضہ وادی پر اپنا تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے 8لاکھ فوج اوراس کے وسائل جھونک رکھے ہیں جبکہ مزید 10ہزارفوجیوں کی تعیناتی کی اطلاعات ہیں۔ اب تک بھارت90ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے ،سیکڑوں بیٹیوں او ر بہنوں کے عصمت دری کی جاچکی،اذیتوں کی طویل داستان ہے ،کشمیری آج تک آزادی مانگ رہے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ دیرینہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے مگر بھارت نے مذاکرات کی میزپر آنے کے بجائے پاکستان کی امن کی کوششوں کو کمزوری سمجھا ہے اوروہ کشمیریوں کو ان کا حق دینے کے بجائے ان کے حقوق کو سلب کرنا اپنے لیے آسان سمجھاجو اس کی بڑی بھول ہے ۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد 15اگست تک انٹر نیٹ سروس بند کردی ہے،یونیورسٹیز کے پرچے ملتوی کردیئے گئے ،غیراعلانیہ کرفیو لگا دیا گیا ہے ۔کاروبار زندگی معطل ہے،مقبوضہ وادی کو آگ اور خون میں دھکیلا جارہا ہے ،جبکہ نہتے کشمیری پتھر اٹھائے بھارتی فوجیوں کے جدیدہتھیاروں ،پیلٹ گنوں اورآنسو گیس کا سامنا کررہے ہیں ۔
73سال سے دنیا مقبوضہ کشمیر پربھارتی غاصبانہ تسلط دیکھ رہی ہے ۔دنیا کو معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہ حل طلب مسئلہ ہے ۔ ظلم وجبر کی تاریخ کو بدلانہیں جاسکتا ۔نہ ہی حقائق کو چھپایا جاسکتا ،سیکولر بھارت بے نقاب ہوچکا ہے۔
مودی کو بھی دنیا جانتی ہے ،اگر ہم اسے دہشت گرد کہیں تو یہ بے جا نہیں ہوگا ،سانحہ گجرات میں اسی کا ہاتھ تھا ۔نریندر سنگھ مودی کٹر ہندو نظریات کا حامل سیاست دان ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے 2001ءمیں ریاست گجرات کاوزیر اعلیٰ تھا ۔ ہندو مسلم فسادات میں بی جے پی کی حامی تنظیم وشوا ہندو پریشد خاصی سرگرم رہی رہی تھی۔قبل ازیں ایک ٹرین بم دھماکے میں 59ہندہلاک ہوئے جس کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا گیا ،اس کے بعد گجرات میں مسلم کش فسادات شروع کر ادیئے گئے جس میں 1000سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اوران کی دکانوں ،کاروباراور گھروں کو آگ لگا دی گئی ۔
مودی بطور وزیراعظم جب سے اقتدار میں ہے، پاک بھارت تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آسکی ،نہ ہی کشمیرکے مسئلہ کے حل میں کوئی پیش رفت ہو سکی،پاکستان نے ہمیشہ امن کی کوششیں کیں اور بھارت نے ہٹ دھرمی کا ہی مظاہرہ کیا ۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا اور اس دورے میں پاکستان کو ملنے والی اہمیت سے خائف مودی نے ایک بارپھر انتقام کی ٹھان لی اوراپنامقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں اپنے قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کرکے انتقام لینے کی ناکام کوشش کی۔
مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں حکومت ،پاک فوج اورتمام اپوزیشن ایک پیج پرہے ،جبکہ ملک بھر میںپی ٹی آئی ، جماعت اسلامی ،ن لیگ ،پیپلزپارٹی ،جے یوآئی سمیت دیگر جماعتیں کشمیریوں سے اظہار یجہتی کررہی ہیں جوخوش آئند عمل ہے، جبکہ قوم کو اپنی فوج پر فخر ہے اور فوج کے شانہ بشانہ بھارت سے لڑنے کیلئے بھی تیارہے۔
مودی سرکا ر اپنے میڈیا پر اپنے اقدامات کوبڑھا چڑھا کرپیش کررہی ہے اورپاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بے پر کی ہانکی جا رہی ہیں ،مگر ان ہتھکنڈو ں سے حقائق مسخ نہیں کیے جاسکتے ۔قومی سلامتی کمٹی کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے وہ نہایت خوش آئند ہیں ،بھارت کومات دینے اوراسے اس کے جرم کا احساس دلانے اورجرم پر بغلیں بجانے سے باز رکھنے اورکشمیریوں کو ان کا حق دلانے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ بھارت کا ہر ہر سطح پر بائیکاٹ کیا جائے اوردینا کوبھارت کا اصل مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جائے اوراقوام متحدہ ،سلامتی کونسل سمیت دیگر عالمی فورم پر معاملے کواٹھایا جائے اوراگلے مرحلے میں مودی اوربھارت کو دہشت گرد قراردلوانے کیلئے جدوجہد کی جائے۔




































