
اریبہ انصاری
کہتے ہیں شعور حاصل کرنے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے،لفظ ”تعلم“یعنی علم،مطلب پوشیدہ و دیگرموضوعات
کے بارے میں جاننا۔۔علم ایک ایسا خزانہ ہے جسے چور چرانہیں سکتا،لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ ہمیں معلوم ہی نہیں علم ہے کیا؟؟؟۔۔۔۔۔
ایک چھوٹا بچہ جس کے لیے سبق ذہن نشین کرنا ایک مشکل امر ہے یہ بات ہم سب جانتے ہیں،ایسی صورت میں اس طرف نظرثانی کرنانہایت ضروری ہے کہ ہم جو اسے یاد کرارہے ہیں وہ ہےکیا؟۔۔۔میں نے چھوٹی کلاس کا کورس دیکھا توحیران رہ گٸی،بچے کوابتدائی تعلیم کے طور پر کلمے،دعاٸیں،و دیگر اورچیزیں یاد کرانے کہ بجاٸے انگلش پوٸمز(English poems)پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے،اور پوٸمز بھی ایسی جن کاناں کوٸی سرہے ناں پیر۔۔۔۔۔ جیسے ”بابا بابا بلیک شپ،آلو میاں آلو میاں کہاں گٸے تھے،مرغی میں نے انڈہ دیا وغیرہ“بچہ جو ابھی نیا نیا بولنا سیکھا ہےاسے اسلام کے نام پر حاصل کیےگٸےملک"اسلامی جمہوریہ پاکستان" میں رہتے ہوٸے اور مسلمان ہونےکے ناطے ابتداٸی تعلیم کے طور پر "اَلسَلامُ عَلَيْكُم"ٹھیک طرح سے سکھانے کہ بجاٸے ”مرغی میں نے انڈہ دیا“جیسی بے سروپا لاٸنز سکھاکر وقت اوردماغ برباد کیےجارہے ہیں۔۔۔۔۔المیہ!!
یہ تو پراٸمری کلاسس کا حال تھا ،چوتھی پانچویں جماعت سےلےکر گریجویشن تک کا حال دیکھ لیں۔۔۔۔طالب علموں کی ایک کثیر تعداد انگریزی پرگروفت حاصل نہیں کرپاتی نتیجتاً فیل ہوجاتی ہے،پھر ہم دوسرے ممالک کے طلبہ و طالبات اوروہاں کا نظام دیکھ کرشکوے کرتے ہیں،خود کو ڈی گریڈ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہمیں اس طرف توجہ دینےکی ضرورت ہی نہیں کہ ہمارے طالب علم کیا پڑھنا چاہتے ہیں،ہم نے مغرب کواس حد تک سرپر سوارکررکھا ہےکہ ایک فرفرانگریزی بولنے والے طالب علم کےمقابلے میں اردوبولنے والا ہمیں ”کمتر“ لگتا ہے۔۔۔۔
ہمیں ترقی کرنی ہےتو خود کو فرنٹ پرلانا ہوگا۔اپنی قومی زبان سمیت،غیروں کی زبان اپناکر ہم ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔ بیوقوفی ہے یہ بہت بڑی،چین کے باشندے کو اگر ایک انگریزی لفظ (pain) پین کا مطلب پتا نہیں ہوگا تو یہ اس کے لیے معمولی بات ہوگی،اس کے نزدیک دوسروں کی زبانوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرنے سے زیادہ اہمیت کا حامل اپنی زبان کے بارے میں معلومات رکھنا ہوگا۔۔۔۔ لیکن ہمیں ایک لفظ کےمعنی نہ آٸیں تو گویا ہم خود کوجاہل تصور کرنےلگتے ہیں اور اسے انا کا مسٸلہ بنالیتےہیں۔۔۔ تعلیمی نظام سدھارنا ہےتو اس طرف نظر ثانی کرنی ہوگی،دوسری اوراہم بات یہ کہ آج کل ایک ایک گلی میں دس دس اسکولز کھل گٸے ہیں،انکامقصد تعلیم دینا نہیں بزنس کرنا اور اپنی جیب بھرنا ہے،لوگوں کی کماٸی کا ایک بڑا حصہ موٹی موٹی فیسز بھرنے میں جارہا ہے، دو ہزار پہ چھوٹی چھوٹی بچیاں ٹیچر رکھی ہوٸی ہیں،لوگوں کی یہ سوچ بلکل غلط ہے کہ گورنمنٹ اسکولز میں پڑھاٸی اچھی نہیں ،حالانکہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ پرائيویٹ اسکول کی نسبت گورنمنٹ اسکول میں زیادہ اچھے ہیں،جہاں ٹیچرز ڈگری ہولڈرز،تجربہ کار اور باشعور ہوتے ہیں۔۔تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیۓ سب سے اہم کام ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ کچے زہنوں کے بچوں کے کورسس سے فضول قسم کا مواد نکالنا ہوگا،کورس میں ایک ایک لفظ ایسا ہونا چاہیۓ جو طالب علم اور ملک و قوم،دونوں کے لیۓ سود مند ثابت ہو۔۔۔۔




































