
شکیل خان
"کراچی ایک چھوٹا سا جہنم ہے۔جہنم ایک بڑا سا کراچی ہوگا"قران مجید نے جہنم میں دئیے جانے والے عذاب گنائے ہیں۔
جن میں سے ایک عذاب بدبو کا بھی ہے اوائل جوانی میں ایک چمڑے کی فیکٹری میں نوکری کی تھی۔کچھ بزرگوں
کے باعث کلام پاک ترجمہ سے پڑھ لیا تھایہ معلوم تھا کہ جہنم میں ایک عذاب بدبو کا بھی ہوگا۔ چمڑہ فیکٹری میں دن بھر یہ سوچتا تھا کہ جہنمی کو شاید یہ بدبو سنگھائی جائے گی نوکری چھوڑ دی بدبو ذہن سے محو ہوگئی ۔
عید الاضحی کے روز تک بارش اور اس کے بعد قربانی کے باعث سارا شہر ماسوائے ڈیفنس، کلفٹن کے کچرہ کنڈی میں تبدیل ہوچکا ہے ۔سڑے ہوئے گوشت، خون، اوجھڑی، ابلتے ہوئے گٹر، بند ہوئے نالے، بھنکتی ہوئی مکھیان، ڈھائی کروڑ آبادی والا یہ شہر ایک بڑے گٹر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سارے کراچی والے اس گٹر میں زندگی کے دن پورے کررہے ہیں ۔کراچی کے اس گٹر میں رہتے ہوئے اب معلوم ہوا کہ چمڑہ فیکٹری کی وہ بدبو تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی۔ بدبو، اور تعفن، اس شہر کی ہوا میں، فضاء میں ایسا بس گیا ہے کہ ہر شخص ذہنی و جسمانی مریض بنتا جارہا ہے ۔
کل رات چھوٹا بھائی کہنے لگا کہ ایسا نہ ہو کہیں وبائی امراض پھوٹ پڑیں میں نے کہا کہ جس شہر کی بارش میں پچاس جوان لاشیں کے ای اہل کراچی کو تحفے میں پیش کردے اور بقیہ کراچی والے بےحس،و بےحیا زندہ لاشوں کی طرح انکو دفن کردیں کوئی حشر بپا نہ کریں وہ کچھ ہزاروبائی امراض سے مرجائیں گے ۔ جو زندہ رہیں گے وہ دوبارہ اپنے دیوتاؤں کے نعرے لگانا شروع کردیں گے ۔
میر وسیم اختر صاحب، وزیر چندہ علی زیدی، وزیر اعلی مراد علی شاہ صاحب، چائے پراٹھے، اور فوٹو سیشن سے وقت مل جائے تو لیاقت آباد سے سرجانی ٹائون تک ایک مرتبہ میرے ٹیکس کے پیسے سے چلنے والی بڑی گاڑی کے شیشے کھول کر سفر کرنا اس گٹر کو دیکھنا جس میں تمہارے یہ ووٹر رہتے ہیں، اس بدبو کو سونگھنا جو ان غریبوں کا مقدر بن چکی ہے آور یہ ازلی و ابدی غلام اس کو اپنا مقدر سمجھتے ہیں۔اس گٹر سے گزر کر اس بدبو کو سونگھ کر اگر واپسی میں آغا خان ہاسپٹل تک پہنچ گئے تو شاید بچ جاؤ۔
ٹوٹی ہوئی سڑکیں،جگہ جگہ گڑھے، ابلتے ہوئے گٹر، بند ہوئے نالے،کچرے کے ڈھیر، کیچڑ، یہ سارے عذاب، اس پر یہ بےحس حکمران، اور سب سے بڑھ کر بےحیا و بزدل عوام، اپنے اپنے دیوتاؤں کے پجاری، میر تو اپنا ہونا چاہیے،وزیراعظم تو کراچی کا ہے، اور اب صدر پاکستان بھی کراچی کا رہنے والا ہے ۔
کراچی والوں تم مٹ جائوگے۔اپنے دیوتاؤں کی بندگی سے نکلوکیااپنے بچوں کو بھی بدبودار، کراچی وراثت میں دے کر جانا ہے۔




































